Skip to main content

Full text of "Bayane Meraaj By Malikul Ulama Allama Zafar Uddin Qadri Razavi Behari R.a. تنویر السراج فی بیان المعراج"

See other formats


منےسلہلہا اعت 113 





کب اتلج 
۳ 


مر طخ 


حن ت۷ اط لان 0 نے 





نیت ا شاعت انٹاک ستان 


وو رج کا نکیا بازاٹی ٹاو کرای سر٣‏ 





مم الکن اکر مم 
مھ ماوٹایشن ارجم 
اصلو دانسا سم خلیک پارسول ارڈ پا 


امتب.+ ‏ با-ئؤیدلریے_ 
۱ت ممراع ہیں او یں یس پا 
ت0 خازہ اع "مت ماف ااھاءما اضر تے خلا م مو اتا 


لف ال ن 5 ریاغمی جا ار ر6 


ا ۹ات 

ار ”۹“ 

مف تا سد اشاعت - ٢۳‏ 

7 > نع در جبالرجب ۶ا 


ابتدائیے - 
درب الھا لین والصلے ‏ والسلا ملی سیدرال رشن دی الہ واا ا نین 
زنط رما" جمجیت اشاعت اعسقّت پاکتان ' کے تحت شال مہو نے وا نے سا ما 
مخت اشما عم تکی ١اا‏ وی یکڑہی ہے۔ بلک القااء تحت علا مہ مولا ناخکغ لم بن بہار رضوی 
ا الر: ۔ک یق بر جس میں علا مہ وصوف نے آ یت مم راع می لنظ ین" حققانہ و ولل 
انتاوف اتی ے :, ہا ٦ٹ‏ ؟"ہ"م""م 
ا .. رت از نے الک اک کیا اب غیت ا شاعع فالسقت اف کن ون می 
نافع مر نے کی٠‏ عادات معاص لم ری ٹب اہ ید جس پل ابو ںکی رح تارقین 
بت لت 


اوارم 


کلک الما ءفانضل بہار ٢آ‏ فا بلح وحکمت 
ولا رظفرالد 0 قادرکی رت٢‏ ویعیالع ۱ 
۱ کارنخانقرت ین عال اضمانی ش رو زکھنگکٹڑوں !نما چغم لی ہیں اورجنٹوں ڈرا 
کا جام پر مود تکی وادی می لگ ہوجاتے ہیں ان دی یش اہلے انسا بھی ۓ جوصرف 
اپئیذات اون مت لک میدرددر ے اور ھا ےا راوج اس دٹیایش رولت اف روز ہو ئۓ جتہوں نے 
اپکی شباضددوزحفت+ دی دی خدمات اورماہیت وغل کا گرب نکرانسمانو لک فلاح د۷ یوداور 
گان خحداکی ر بک تک رسا یکا کا مک کے اپنا نام زی د نیا کجچھوڑ گے _ ۱ 
تار کے اوداقی ا لح مک یلیم شحضیات سے کھرے ہو ئے ہیں انچ یلیم رآ ور 
ناپ ڈگصراورتا رن سا زہستیوں میں مک التدماء فاضل بہار :سامح ممتقول ومنققول حرت موا نار 
کلفرالد نی بہاریی رضوکی علیالر کی ےو اتک نام نیا ےلم رایت شس پت 
ظ1 چے۔ 
۱ کک العلمساء موی اش رفا 00ت اح شش دریاۓے 
گنگ ےکنار ےآ بارش یم الپ )امش پوداہوے شخقت پدد کی چھاؤں ایی 
فرکا آغخا زکیا اور ںاھ ٹس اپنے زمانے کے ماہروشہو راستاذ عد یٹ مولا ایی اص حرٹث 
سورکی علیہ الرصدرے "درس رط" نی لم عاص٥‏ ل کیا سا یش ماہ رممتقولا تحت مولا نا 
ایس نکانیوریی علیرال رص سے “تقو لات میں استفاد ہکپااور ای سال عال اسلام کےشیم 7 
روھاٰی مرکز نہ پیش ریف میس حاض ہوک راعلی حرت امام اہاسنّت الشاہ اح رضاخمال تقادریی علیہ 
ال رج سے شرف بت حاصل لکیا سارہ بیس دا العلوم منظ الا سلام کے قیاھ ٹیس پانیا ہگ ردارادا 
کیا مات مل نار تحیل ہو اوراسی سمال وارااعلوم منظ اسلا مکی تقد رض پر 
افروز ہوکرتشفگا نع مکی پیا کو ھا ےکاسلسلیشرد کیا۔ ' 

اس موق پرامام اہسقت اعلی حفرت علیرالرمہ ےآ پکوقام لال طط یقت مٹش 

اجازت دخلافت سے داز تے ہو ۓ ملک المقلمما اور فاتصل بہار کے خطابات شیا خعطافر مائۓے _ 


۲ 


کک العلیا ء فاضل بہار علیہ الہک انی رحصیت ےگل فگیشوں پر رشن ڈاگۓے 
ہوا ےترم فذام چاییشس مصباتی (ایڈیااپنے ایک شون می لکیص ہیں ۔ ْ 
اعم وحکمت ,یرت وگ صامت رائۓ ء صلاب تگگ ہے شعوراورراست سوچ 
سے پیر تھے۔ کک الما کوامام امم ررض ا کی جو ہراس لگا ہوں نےنظ راول بی یس پپپان لااو 
ا نک یمگہری سوب اور پاوزن انکا راس قمدد اترام امام اتحہ رضاکے ہا تھا۔' جا مع مظر 
اسلام' کی تاس کے ٹپ مت میں ذ راچا تک کے د ےسب سے پ,ہلا دا ےجنس کے دل میں 
اگڑائی لی دہ کیک القاریا بی تھے او رفظ راسلام کے م ورس علام اپ ہوزہا رھرک اور بنرمند 
جو زکی خواصور ےگ پک تچ پکوردزرطرما یف ری کیا طاقت اورخلوع گر نے نک لا یا او رای 
ال منظ اساام" کا قیا مل میس آ گمیا۔ جدراس و چامعا کی تار شی سے پہلا داتعہ ہے 
کہ ای تتتلم اورپ ر عم ری نس داعاکہ یتو ںگیجیتیں پیک د تمس ہوئی ہو ںکرادار ےکا 
سیت ریک می نشل سس رول اداکر ے٠‏ چٹائی پ پیٹ زالو ےعجلر خیےکرے او رکیل 
درسیات ہوتے ایا ای درا ہی سد رٹ سکیا ز عنت ہنا یا جاۓ ا ل خوش میں ملک التلماء 
نرظرآہیں۔ : 
خیااان رضنا سےا شمے والا راب بارندہ کڈ لکا خاب بش ربعت ور یق ت کا نیب: 
ما فی ون لی وارے علوم نمی ڈقاء جن رحب رسول خ سے سار برصغمر کے زرے 
ذرےکو اکر ۱۸ نوم ۹۷۲۴ا میں خروب ہوگیا۔ضرت شاہ ایی ابداٹی اسلام پپوری نے نماز 
۱ نا زوپ حائ یمک ویدرٹی کےصدرشع بی ری برو فیس ڈاکمت الین ام پ کے لات انقار 
زرروو لسرم میں 
ارارک وتقالی سےدعا ےبد اپنے پیاررےعجیب رف ا تم علیرا نل )صلو؟ 
لم سےصدقے ول مک العلسا کے ذرجاتکو ند سے بندتر فرماتے اوزکئیں ان کے 
نتوش پابرگاسرن رک ہوۓ سیک اعلی حضرت زشی ال تزاٹی عنہکی خدم تک فو غقی نی 
مرصتفربائے۔آ ین ہاو سرن ا ٠‏ 


اٹ لله رب رک تمہ گی غلمم 
انکر .وت 
رہ الڈ و ذہ ثوغ حٍْ غٹی کیٹا ء زان اکم 
كت تر ۶ ا ا لی 
خہیۓ الانہبا وو اثمَزسیئن ٥‏ زاتعليِكتَالَحَتزبین٥‏ زغلی. 
وکا ا ٤‏ العثَالِحِينُ٥‏ ز گَئوٹا ء تو زہیرزنئززنعم 
اَمَمَعِ مو" رت ۱ ۱ 
مود الو بی ئا ز الزّحیم 
پش ال 2م الزُحیٔي 
تت؛ٴ؛ دی گریا می رعھی این انث ٹوش 
١ٹف‏ ود نی الَّنث! گت ول ِكِنة بی انائنا' نامز 
اخ اوہ کو رہ کولائ: لطیخ ئل لول٠‏ 
اللَِٔی اریخ و تح خی ڈُلکڈ بن الٹامیئن ر 
اگ کرو 0ر یلیر رب الَنْثَيِبرّہ 
معزز عضرات! خداونر عالم کا ہزار زار شگر ہےکہ علیہ شریف مت ن گیٹ می رں 
جپعہ رشی ششریف کے وجب ”کے مک مارک بت می شان ر خرکت' صن 
انغام و اہتمام کے ساتقہ فیداش رومانی و برکلت اما یکی ضیاء پاش یکرت ہو ہنرو خی 
انام ہائے۔ امسا لمگیارہواں جا بہون اللہ قالی و یق انزاغ و اقام رکات ایال و 


۲ 

ررعاٹی کے سان مقر سے جو انکام و اہتمام می کی طرح گے بہلموں ےکم میں 
بنا الیک فرق ضرور ہج ےکہ پر سال می انی تقمیدری تقریے مس ایک نہ ایک مصمور مقر رکی 
تٹریف آور یکی خبردا ادر ان کاخ رمقد مک تھا۔ ان کے اوا فکریہ و خصائھس جیلہ 
بیا نکر کے آپ رات سے ان کا تار فکرا] تھا۔ انال ب نس اس ک ےکسی کے کنے 
کے بدنلے ایک ٹل رورت؟! س جل ہی روخ رواں ادر پرکام شی یر سے زیادہ دی 
لج راتے' رود ازس کور ٹنٹ دپنی جلسوں میں شرک تکرنے والے زوق شرتی رے 
صن نقہ میلار شریف بن وائے اس غاقاہ اور صاحب حیادہ سے غایت درجہ محہ تکرنے 
واۓے' پاوتور مہ ماقاہ رمائے ہوگی ر کے مد تھے فی نس ٹوشلی اعقاری اور یازىیری 
سے یمان عاضر ہواکرتے اور چپ رکام می شریک دپاکرتے "کہ بی خیال ہو امہ یی کے 
۱ متو نین سے ہیں۔ 

ین سب کہ اس قرر مفات بیا نکرنے کے بعد عارین جا کے وباغ اور آگموں 
میس جناب محب الرسول نان صادب مرجوم و مغفور کا نقشہ تّائم ہوگیا ہوگا۔ اس جس کی 
تید میں تصسی الم کے نے کے عوض ان کے اس دنیا سے جال ےکی فرصرت ار وک کر 
ہوں' جن کے اس طا۔ میں نہ ہون ےکو میں بمت فقصان سو ںکر رپ ہوں۔ إِنّ لہ و 
ِنَاإِل ِا حِعُونَ 

گر اے رات یس آ پکو نین ولا نا ہو ںکہ اگرچہ گب ال سول غان سا دب 
عرتوم نما ہبی سان صورت سے اس جلمہ میں موجود ٠ہیں‏ ' فیین ا نکی روج لطیف اس 
وت اپنے پارے جلس ؛ محبوب میلس مم ہن کی دس سال تک انسوں نے حدم کی 
ہے' طرور ضردر موجود ہوگی۔ اس لی کہ دہ مرد صاغ تھے اور صالی نکی رو یں اس تم 
کے دی جلسوں بی شرکت کے ےی آیکرتی ہیں۔ عم سج مصدررک اور این لی شرپہ اور ۱ 
امام ام ابی سند میں حضرت عرو بن العائس رض اللہ تھائی عنہ سے راو ہیں "کہ دا 
افو ںکی جنت اور صلمائو ںکی زندان ہے ' از زئان وال گل چپ چان لق سے تاس 
گی نل لی نۓ کت گائی قد غمانہ میں تھا “اب ا آزار گر دیاعیاکہ زین می ںگش تکرنا 
اور افرافت چتا ت۔ اور ابن ای شی کے لفط ہی ہی ںکہ جب مان هر ہے 'ا سکی رو 


۵ 

کول دی جاتی ہ ےکہ جماں چاسے سیرکرے۔ 

قاضی شاء اللہ صاحب پائی بت جنمیں مدلا اہ عبرالعزی: صاحب وی تل وتت 
فرااکرتے تاپ ی کاب "نےکر ال وتی'' میس کھت ہی ںکہ صالی نکی ارداح زشن و آسین 
اور بھشت ویر جس ہہماں چاہیں' جاتی ؤں اور ایاء ایر دشا کرام کی ارواج طیب کا کیا 
کمن وو ڑو میدن و مفمری نکی رزگ گج ہروقت مستعد اور ا نکی عایحت پر رب یکرنے 
کے ے موتورہیں۔ نطرت سیری اجر زروق اکابر علامٴر اویاء' ر ارلیاۓ ویار رب ے 
یإں۔اۓ تیرہش ارشار فراے یں: 

تا یگرشرٹ عایخ ینام 


ٌُ ُ۔ 

۰ ہے کے ےی ےگ ٦‏ 1 
وڈ کشٹ فی ضیں و کرب و ؤوغشت 
1 رر حفرظ شر عص۔ 
کتاوِ یبا رَرنْق اب بُڑئق 


گنی میں اپنے مریدکی پریٹانوں مس جمعیت تػ والا ہوں۔ جب تم 

زانہ ابٹی حوست سے اس پر قند یکرے اور اکر تو گی ووحشت مں ہو ڑ* 

یں ماک '' یا رر" می ڈور | آ موتور ہوں گا" 

شا وی الہ صاحب وباد انقاس العارأینٔ میس اپنے نان ابوالرضا مج کے عالات مل 
کت ہی کہ ایک بڑھیا ا نکی عردہ شی۔ جاڑا کے (سردیی) نخارا می جا ہوئی' مد سے 
زیادہکگزور ×دگئی ض۶ ش کو اے شدرت سے پاسل گگی “کوئی لی دیے والا مرجورئہ 2 
باڑ ےکی وجہ سے لاف اڑھائ ےکی ا ںکو ضردرت تھی۔ حعفر کی روح قش ہ کر 
تٹری فاائٰ'اں پالی پلایا اور لاف ارڑھاً اکر اپ ہو وگئی اور تضوری پور مو شہاگر ض 
اللہ تالی ععنہ کے نز اس عم کے ترنات عائم اشکار ہیں۔ ابی ای قی دک کرس 
اصل مقعیرکی طرف مج ہو ہوں۔ 

معزز عفرا ت گزشتہ سال میں نے لفظ سن * کے متعلق مضاشن میان سے تھے۔ 
اسال بھی مرا ان اس لے “کے مت ہوگ اور اس شمن میں ؟ نے دو علم 
میم کے فضائل دککالات کا اظمار ہوگا گزشتہ سال مج نے "من " کے معن ابر ائۓے 


٦ 
ا ان امرکو رکھاا تھاکہ ہہ صفت فا مضور اقدرل مل کی ہے۔ آن‎ 
من" کے ووسرے مع نیل انکر ہوں۔ مج شقن بی یلق رب‎ 
لے صی بی ے یع متا ششاوع شڈ "وی شی خاو گر‎ 
سے وہ لوگ ڈوہائے گن اور سے امرہ ایس بن جج رکا مضمور شمعف‎ 


تطاول لک بالاثعد 
ہے یم سے 1 ےھ 
و آتا) اثغیح ً تم کرئ 
٠ ٠ ‫َ‏ ُ۰ 7 کے 7 
و ذنلکە من نکا جتاء نی 

رب ھ‌ے۔! ۔ 
و مخرٹۂ؛ عَخ لا (لالارہ 


شا ککتا ہےکہ اے فس !ری رات اش می بت لبی ہو یی بڑی 
بے نی ج سگگڑری اور وہ لو فک رن و عی سے غالی تے۔ وہ سو اور 
- سوا اور بر ہہب اس خر کے بدا جو میرے پا کپگی اور مھ ابوالاسود 
کے متعلقی یرد یکئی بھی" ٰ 


ور لے 4 
انس طرع فرذدق سک ممرمی ہے 
: مسررجڑے 2ٰ2 
تُتٌسِیٰ حیاء و بککتیق من مہابی 


ث5 مُکاع با حبیٗ ببٹیع 
نی وہ مم بر یکرتے ہیں مب سے اور ان کے سا نے آکامیں پثر ہو 

اتی ہیں ہہب ا نکی ببت کے" ان سے کا مک یکو ول خی :کر 

ٹس وقت وو مم فراتیں" 

ان توں سَلہ "من تلیل کا ے۔ لیبن علت و سب کے لی آیا سے اور اس 
کے امشیل قرآن شریف وککام عرب میں شائع و ذائع ہیں۔ 

این عساکر نے تحدر طریتوں اور عروں ے رواء تکیا ے کہ نشام می ہراللیگ 
نے اپے والر الف کے زانہ خذافت میں کیا یت الہ کا طوا فکیااور بس تکوشٹٹل 
کیکہ ہجمراسود تک بیے' لان لوکوں کے جو مکی وجہ سے نہ تچ سکا فذ اس کے نیہ ایک 
مب رکھ بایان پر بین ھکر دہ لوکوں کے بجوم کے جن کا انظا رک رہ تھا" اور(الل ے 


گ 

مات شام کے جوالی موی بھی تہ ۔کیادسکھنا ہ کہ ایک وجوان خمایت سن و خواصورت 
آ و بیت اکا طا فکیاجب تج رامود کے پوس کا قص کیا ق لوگ با یکی رح پٹ 
یئ اور ا نکو راست رے دہا کہ بت اظمیان سے بل مزامت مج راسوزکابوسہ میا۔ ہے دس ھکر 
کسی شائی نے ب اک ہ ہکون شس ہے" پ سکی بیت لڑکوں کے دلوں پر اس تمہ ے؟ 
اور وگ اتی عوز تکرتے مہیں؟ بشام بن بدا پنک ا نکو اتچھی طرح چان تھٴ من ال 
ال ےک ہکہیں ال شام ا نکی طرف متوجہ نہ ہو جانمیں' ولا می ا نکو نمی پاتا۔ 
فرزرقی شاع بھی اس وقت موجور تھا۔ ال سے د| زی فور اہول اٹھاکہ تم ا نکوخیں 
پا ؟ خان میں پانا ہوں' لوگوں نے پپچھا کہ اے ابوالنرںا کون شف ؤں؟ 
رزق ے ابر یہ ایک بمت بی زور وار تھی ہیا ىے تھیرہ ھت ڑا ہے نکر ند اشعا رکا 
پڑھناموضوم ہہ سے با رنہ بک اس ےک ال بی تکی نحریف وقوصیف مین ریف و 
نومیف رسرل ے:(صلی ارہ تعاٹی علیہ و ۱ 


ي 


ھ 
و ۰۸ ےر 2ے ےئ ں؟ٴٔ 
٤‏ ےھ ےو ۱ء 7 علاته 
ھا۔!ا اندِ ی یعرف لعلحاء و 
/5- 


و میٹ کٹرک و اٹیل ی ائکرژ _ 

ور تم ےک نٹیاۓ لہ ان کے نشان قد مکو اتا ے۔ میت 
1 رّ ۰ 

ال ا نکر جانا سے“عل ا نک جارتا سے' مم ا نکو بنپاما ہے۔ مطلب ے 


سے کہ اے تشام ال فی فیں پپاح' گیا ہرا' مارا جمان ان ک بپاتا 


س<> 
َّ 7 بب )2 7 طُ بروظے 
ُّ : 
صرے 3 شر قرف ےہ ھے الا 
۱ پخرو ھداە تپتدی اامم 
0 1 


1 
ُ“ ر2- َ ے‫ 1 
ٰذا اش عَثر ع؛باداللء کیْہم 
رر 


س٥‏ 
۲ 
×7 ت7 ک۔ ھ رت 
ما التقی الثفی النطا 


بث الْمَلُم 
"بہ ہیدان خدا سے بح کے بے ہیں۔ ہہ تقی ہیں' سی پاکنزہ ہیں' سے 


اک ہیں ہہ عم یں" ۱ 
۱ هٰذا ابْنُ فغَالَةً ان گے ام“ 
یکتو ايّا الٹے كکَه ععمن 
صعفرت فاط بت رسول الہ یہ کے صاجزادہ ہژں۔ ق ار اتیں 
میں جات ہے 'ت با نکہ الیل کے دادا مان النببین مل ؤں" 
الٹڈۂ مَۓِنّۂ قد ئا ز ‏ تَبَّئَ 
غری بڈیکئ یئ لڑچ لَه الْتَلع 
اللہ قمائی نے انمیں بیشہ سے مر فکیا اور فضیلت جھٹی۔ ای کے 
ساتہ مو فونا میں آلم ار ہوا'' 
کٹ و ترثئنغ متا و تثئیعم 
یہ ا یگردہ سے ہیں ہج نکی عبت دین اور جن سے نخض دن اکذر ہے 
اور ان سے نزدٹی مجات اور گارا ے“ 
تا ا ذو الله وِكرمُۂ 
فی کل بڈ و مَعْتُوٍ یو اثُگْلغ 
لے زس ہی ار خر راک وت 
یں" 
مُمتَدئٌۂ العُوٌْ و الْیثڑی رر 
٤‏ ۶ یو السا ٌ الژِكغ_ 
ان کم رھ سو رک دک 
جائی ہے اور ان کے بب سے اصان اور ثقت میں اضالہ ہو ے'' 
رن ئٌٛ اخ الُٹی کائو رک 
آؤِٹل مَی عَۂ آخلِ لس پیل مٍُ 
0 رر 


۹ ٰ 
کہ روئے یع می مب سے رکون ہے؟ ق اس کاجواب یہ بوگانگہ گا 
لوک یں'' 
شع قز کیا سے اور جرات و شالت ددلیر کی ع دک دگی ے۔ 
ا گت ٹٹیۂژه الله بر 
و الْکز مَثٹْرثۂ ىر اللَوخ و انم 
"'اے غیفہ زارے| اگمر قے ان سے جواقف جا سے اور الک رک ربا ہے و 
اللہ تعن امیس پھاتا سے اور عرش انی اتا ہے“ لو انی پان ہے 
۱ اور لم انم بجپاتا ے'" ۱ ۱ 
ؤ لَبْسَ تَرلّكة یش ہٰذا یضَائی 
َلْکرب تثْرث دِ انْگڑتَ تع 
'تمارا فو ل کہ میں ا نِکو نہیں جا ؟ ان کے لیے معن میں جن کا مم 
اا رن ہو 'اضیں عرب بپاتاے' گُم جانا ے'' 
ہے س یکر جشام بت خصہ ہوا اود عم ویک فرزد یکو کہ معظر و بی مورہ کے 
درمیان عفان می قیدکر میا جائۓے۔ جب اس واق گی خ امام زین العاہرین رش اللہ قالی . 
عن ہکو کتی' بارہ ہزار ددم ال کے پا بیج اور مزززرت پان یکہ اے ابوالفرسااگر 
میرے پا اس سے زیادہ وبا او بی ویا۔ فرزدقی نے عر کیااک اے این دسول اللہ 
ا ا نے ج پچ ھہکھا حض عرزت دی و اما اللہ و رسو لکی رضاکے لیہکھا۔ پر 
گز اس پر اجہ و صلہ ودب نہ لوں گا۔ ایام ڈین رین نے فراپہکہ اللہ تالی میں 
مین جزارے۔ لن ہم ال یت جن بعسی چک مال دیتے ہیں راس دہں میں 
لج جب فرددق نے یلع مکی* جب ڈرذوق قید ہد قد خانہ می اس نے بشام کی جھ 
کی ری حکر دی آخ مور ہ کر ہشام نے ا یکو آا کر دیا۔ 
خی سکیف ١‏ یجھے یہ بیا نکر تھاکہ لفطا م نکبھی علت کے لیے آن ہے اور ہے صفت 
اس تضور اقزس بی کی ہے۔ ففہ والے یلک چار تممیں انکر ہیں علت 
اعلی“ علت تم ری' علت موی“ علت خائی' اور عام ف کر نے کے لیے ا ںکی مال اس 


7 
طرح ری ہ ںک۔ جو کا مكکرنے والا ہو وہ جلت ناعلی ہے۔ تیے تنت کے کے مار ب وی 
نت کا انے والا علت ای ہے اور ا سکی بزیات وشل عرلع پا تل چار پالوں' چار 
پیوں سے لکر ایک مات خائی لت دی ہے' اود لی با ٹس چ کی چوکی ای 
جائۓ' وہ علت ادکی ہے اور اس پر پٹھنا ا نماز پڑھناعلت پالی سے مضور اتل 2ر 
لاشبہ نام عو قکی علت ذائی ہیں۔ لجنی سب مضور ادس میم ی کے کی پداکی 

گمئیں*اعلی ححفرت ایام ایل سنت نال بریلوئی قرس مرو العزی: فراتے ہیں: 
زشژن و زاں تممارے لیے ' کین و مکاں تممارے لیے 
جضن و جناں ممارے لے بے دو جماں تممارے لے 
دجن میں زہاں تمماء تن لیج دن میں ہے مہا تقممارے لیے 
ہم آئے یاں آارے ری 'اشیسں تھی وہاں تممار ے سے 
یم و تھی تچ رہف خیل و رض ٠رعل‏ و ی, 
یق ر رص فی ر علی' اہ کی زاں تممارے لے 
نت جی ر ٹر کہ آھ پر لاگ رر بت کر ۱ 
نہ ہب ر سرکہ ققلب در جگرگہیں حر :کنا ں”تممارے لیے 
نیل ر فی تی و مفی' بھی سے کی کہیں بھی ری 
یہ بے یرٹ ی کہ علق بپلربی “کماں سے کماں تممارے لیے 
سا دہ لہ کہ بچدل گ' دہ با پچ کہ دن ہوں مگ 
ام لے کے ام میں کے ضا کی زاں تممارے لیے 
رات نہ خیال پرایا جا ےک شضس شائرانہ تفیل خی اس لے اشعار ے 
اتد لا لکیاکیا ے۔ ج۔ بے اشعار اس عالم تق کے ہیں ج نکی شائری رین اور ج نکی 
اکر ائمان بب۔ جن کا ہرشع رکسی نہکسی آیت کا قر مہ "سی نکی عدیٹکابیان ہے۔ 
موی ٹ کرو اس ملمون پر شاہ عدل ہے۔عدیث ہکم جللی و طرالی حعطرت ای امومنین 
تھرفار وق احظم رض ان ای عنہ سے رادی ہی ںک نضرت اندل سم فراتے ہ ںکہ 
. جب ہوم علیہ السلام ست اخزنل ہوگ یذ اپتنے رب سے عرن لک کہ اے مرے ربا 
صدت محر تیم کا میرک ماغرت فہا۔ رب ااعالنین نے فرایا: م کوک وککر پانا؟ عم کی" 


1ا 
جب تو نے جج اپے رت قدرت سے بنا ادد گھ میں اپچی روح ڈال' نے سرغاا و ۱ 
مرش کے یں ط "الیل دنہ ار شب اث" ھا یا۔ جااکہ تر نے اپنے نام 


کے ساتھ ای کا نام لایا ے' گے تام لوت سے زیادہ پار! ے۔ اللہ تالی نے فرایا: 


‌ٌّ‫ ۰- رقاصتیيي سح تن ھےے ا ےکی 
”حدفت يَاادم ان لاحب الخلق الخ “اگ وٰدَا اَی 
س" صرر ےب وھ ےی“ گر شی گے + ہی بخ 
بحتع ند غثژث لک ولوؤ محمد ثاغفڑرتک و ٹا 
صٌ اس 
سو دقج۔ٴہ 
اڈ جک" 


”اے آ٣م‏ نے کا بے شیک وہ بش قمام جہمان سے زیادہ پا۸ا ۓے 
ا بک تو نے ان کے من کا وسل کر کے بھھ سے اذا نر میں یىی مذخرت 
کرت ہوں اور اگر ھی میم تہ ہوتے و میں جیری مافرت کر تر مج 
بناتا۔ : 
دو سی عدیث مس ہو عالم نے روای کی* اور گی خکھا حضرت عبدایہ بن عیاں 
رضی اللہ تعالی منماسے مروی تت کہ رت معزت مض سبنانہ وتھالی شانہ نے رت مکی 
علیہ السلا مکی طرف دعی تنب "کہ تم حر مم بر ائییان لاؤ اور عم ودای اص تکو جو ان کا 
زان ہائے ان بر اییان لے 'اس کہ گر مھ صلی اللہ تعالی علیہ وم نہ ہوتے فو مس 
نہ ػآو مکو پداکر اور نہ جنت پد اکر ا۔ نہ دوزرخٔ تا)۔ ۱ 
تی وریث ابع اکر حضرت سامان فارسی رض اللہ تھالی عد بت وروی ہیں کے . 
کے شور ایٗرں رر سے پا اللہ شال نے حضرت موی علیہ ااسلام سے 
کا مکی یی علیہ السلام کو روح اق ل نایا ابرائیم علیہ السلا مکٴ انا نیل فربایا تدم علیہ 
اسلا مکو برگزید کیا حضو رک وکیا فضل وط زوا ای وت جب نیل این ماضر ہو ئے۔ عرل 
گیا رب اآہزت نل جاالہ فراا ہے کہ اگر میں نے ابرائی مکو خی لکماے میں جیب 
کی ۔ اکر موی سے زین میں کل مکیا حم مت شب ماع آسان ہ نظ مکیا۔ گر کی یکو 
ْ روح انقدس سے بنا و تما و و2 سے دو ہزار بر پٹ نپ بداگیا اور تممارے 
ندم آنمان میں دہاں سے ٴ ز× پل کوگ گیا“ نہ تممارے بعد یکی رسائی ہو" 
اور انکر میں ۷ و کاو میں تم الاخیاہ نمرایا اور تم ست زیادہ غزت و 


۲ 
۱ گرامت والاصس یکو نہ بایا۔ قیات می میرے عرش کا سلیہ تم ہحتردہ اور کا ناج 
تمممارے سرے آراست ہوگا۔ 
تمارا جم مج نے اپنے نام کے ساتھ طا اک ہکمیں میری یاد نہ ہو جب مک تماری 
۱ ار میرے ساتھ نہ کی ہاۓ۔ ”وَلَنڈ لٹ2 لُّْٹبا ء لہا لا تع 
كَرامَمَکد ولک یش ولاک ما محلم انبا" اور بے کیک میں 
نے دنا اور ال دناکو اسی یی بنااکہ جو عزت و ضزات تا کی میرک بارگاہ جس ہے ان پہ 
ماہرکردوں اور گر تم نہ ہوتے ق می دناکو نہ بنا نا نی آدم وعالم سب تممارے طفبل 
ہیں۔ تم نہ ہوتے نز مع و عاص یکوئی نہ ہو تک جنت دنا رہکس کے لے ہوتیں؟ 
ور ر زات اوس مر جمکی یل 
رر پور اوت رگر گی کام 
وت میں شل ار پا اريم 
ولاک دالے ساتی' سب ترے مجھر یی ے 
وی عدیث بے نام تممالی نے مایپ ورہے میں لئ گیا آوم علیہ السار ‏ 
واسلام نے رت کی ایت نے میر یکنیت ابو عو ہکس لیے رتھی؟ عکم ہوا“ اے آ وم1 انا 
رانا آوم علیہ السلام نے مس راٹھایف سرب دہ عرش مس مر مڑنکیم کافور نظ رآیا۔ عرس 
کی ایا فو کیا ہے؟ ہیدہ فور تیربی اولا مس ایک نی کا ہے' جس کا نام اسان میں 
اھ اور زین مس مھ ہے۔ (صلی اللہ فھالی علیہ وسلم) لوک سا کک ۶ل 
شَشت سما؟و از اکر دہ نہ ہو امش گے نہ ہا نہ اسان د زی نکو پداکر۔ 
ایی عدیٹ ‏ امام ابن سخ نے ححضرت امہ رالمومنین مولاۓ کائیات رض اڈ 
تالی ع سے ففل ڈرایا کہ اللہ تال نے می ا سے فرایاء مس تیرے لے زین بھاتا 
ہوں' دریا “وبجز نکر ہوں' آسان بن کر ہوں 'جزاو ڑا مقر رک رب ہوں۔ 
ان سب روایجوں سے صاف اور وائیع طور پر معلوم ہو ہ ےکہ سب پچزیں حضور 
اندس مہم کے لیے :نٹ یکئی ہیں دی س بک علت خائی ہیں۔ بے تک کچ فرایاے 
زین و زاں ہارے لیے “کین و مکاں مممارے لیے 


۳۴ 
پچنین ر چناں تممارے لی بے دو جہماں تمارے لیے 
التّهْعٌ صَلٍ غلی مَجَدِنَامُحٹْر و ایم رت رک رَعلِغ 
تل لک واقعہ آپ ععخرات سے عفلی میں ' لے مضور ارس ا اور ٹا 
ملان نان رک ۔ کی طرف رر غ کر کے نماز ادارت تھے تضور مثہکیم نے مین لی کی 
طرف بجر کی فو بیو رکی لیف لوب اور اسلا مکی طرف اک لکرنے کے اخیربیت 
القرس قبلہ تار دیائگیا۔ سولہ یا سنزہ یہ تضورالصلو 7 والسلام نے اھ فماز بھی“ ین 
دی خوائش بسی تی 'کہ پھر بد ستور خان ہکعبہ قبل کر دیا جائے اور ال رش سے تی کے 
انار یش ہار ہار مضور آسا نکی طرف دیکھاکرتے جے۔ رب العز تکوسہ اوا بت پنر 
آئی'ارشار ہوا: ٠‏ 
ىد ری 47 رُمُہکد يَی الکّت و مَنَتَرلِيتک یبن 
ترِمبانَوِرمُبَک شَلُراتععجداثعرع 
'اے گوپ! جم دک رسے ہیں پاد ہار تمارا م کنا آس نکی طرف و ۱ 
رود جم اس قبل کی طرف ھی ریں گے جس میں خماری رضااور نوی ہے 
3 ھی راو منہ مسید عرا مکی طرف*" 
مداونر الم نے عم دبا اور تحول قبل ہکا راز اور علت! اس آیت مس خاہر فرایا: ۱ 
ما عَعَلْتَ الْْبلَة الین کُنت علیہ ِأَيِنٹلم نی کتَمُ 
الرِمُؤلَ کن جَثْفِب تالی عفر 
نی جس قجلہکی طرف خم تھے ا سکو میں نے اس لے قبلہ قرار دیا 
تھاکہ ظاہر ہوجا ےک کون رسول کا مخ ہے؟ او رکون ایڑیوں کے مل پھر 
ے؟“ 
ین کون شض رسول (صلی اللہ نواٹ علیہ وملم کاس فان دار سے کہ جو عم تضو رکا 
×× ہے' اسے بے چون و را جیا لا ہے او رکون اس میس اپنی ٹنیس اڑا ہے؟ شاضانے 
انا ہے ؟ کہ مکیوں ہوا؟ ہکیوں ہوا غ رن ا ا ںکی بھی علت حضسور بی ہیں۔ 
مرنے کے بعد جب انسان دش نکیا جانا ہے و لوگ اسے اکیلا تھا یرود ری کگحھم 


مش بے یار و ددگار چچھوڑ آتے پ 2007 تے ہیں 'شن ما ام ہے تر 
کیہ ا نکی ایت د انا و نے کی ولیل ہے ا نکی خو ٹاک بت اور ڈراو شکل جو 
۱ اعث میں آئی ہیں ا یک انکر کے می اس مرا شریف کے پر مسرت جل کو 
من یکنا ن٠ی‏ چاتا۔ دہ آ تے جی پا بیس گے "اض ن کنکک "تحار بکون ہے؟ رب کا 
جوژل ہر نان ہرلدم ہرہب سم یش بدا یکراے 'تواپ ریاچچراں شگل 
یس مک کے سوااور او ںکو اس کے جواب یں دقت نہ ہوگی۔ 

دو مرا سوال سی ہو کہ "ساد یک "تیراو نکیا ہے؟ ہر ننس نس خیال کا متزز 
ب× ا ہیدہ اچناین جات ہے اور ا یکو وین تق تمچھتا ہے ' لان اس کاجواب آ کی کے 
اخاری لہ کے جواب س ےکم می ' ہس میں کھا ہو ماہے بت کا جب ھاکے سر 
حفوظ جواب کے لفظ ماف رفک وو دی اندام کا سفن ہوم یماں بھی دی 
واب سب۔ اس1 مس ربمرجواب کے بر لے یماں لوحع کفوٹا میں کا ہوا جواب ؛ بت مل اشین 
کے رجہ آہواجواب' رعول اہ اسم پ ازل شر تواب' ر سول الہ یم ارر ان 
کے غانام* معاپہ و مالین و علائے رین کے ذربیہ اطراف دو اکناف الم یس پیل ہوا جواب 
”نے ےشن ينة اللہ ال لام" کے کے مطاقی نس کاجواب ہوگا' ددی جواب ہے۔ انعام 
ا سن وی ہے' اس کاجواب لف ملف حرف مرف اس جواب کے مطاق ہں- 

اب مرا سوال جو اصل سوال ہے ' اور نس سے من د باض لکی پجپان ہو مومن و 
ماق نکی ”رت بین طور یہو ہاۓے۔ "مَانَتُوزُ ْن هٰذا اه( بے پچ دل سے 
ان اان لاےٗ والا “ان پر جان و مال فو اکمرے والا ان کے کر سے پان تر رکٹ وال“ 
نت ان کی محبت میں مت ر سار رے وال' ان کا مواور شر فکرنے والا/ مواور رف 
ہج ول مواور اس ہے یر رن پا ار شرینکی میاں رجی 
شریف عق دکرنے والا ال کے لہ پند یرہ مال خر کرنے والا'اس ذکر سارک کاکرنے 
ورای یں می شریک :کر دہپی د مبت سے اوصاف رسول (ضلی اللہ تالی علیہ ُ0 
سن دا. وبد میں آ جائے کااور بے سافن ہکمہ اھ گا "ماشو او تج مم 


رك : رزگ امتابه رتا تتابتا جۂ لت 'ے مارے رعول“ٴ ہمارے پچ رر 
۳ 


غرہ 


٣۵ 

رسول اللہ (صلی اللہ ناٹی علیہ وسلم) ہیں ان پر ہم انان لا ہیں اور ج مھ مد اکے پاں 
سے لائے ا سکی ہم نے تقدب کی۔ صلی اللہ تعاٹی علیہ وم 

فرش اں جوا بکو سلتے ہی زراسما مطظردوزغ کا رکھاکر بیشہ کے لیے 'جنت کارروازہ 
کول ریں گے او رکہیں گے“ اے شخصس! اکر فو ان پر ائمان نہ لا تا کا ہے و" ۱ 
ین ان پ اییان کے برنے قر نے ہے مین فقت پای۔ معلوم ہواکہ قج رکاسوال فتط ای 
لی ہو ہ کہ صاف اور واج ہو جائ ےک کون شنفس تضور اقرس بی کاخلا مان کا 
ہانررار ارر ان کا جاثار ے؟ الہ ا ںکو بھشت بریںکی شموں ے مت نی جاۓ اور 
کون پدبنت ان کا مگ رٴان کا الف ' ان سے مخرف“ ا نکی بے تر یکرنے والا' لوگوں 
کی دیکمادسکھی صرف زبان سے مد رسول الش کت ہے اور ول میں دعوکی صاوات: 

ری إ_۔ الاو _ بردائتند 
امیاء 7 پچ ٹیر _ بپندائتند 

کامصداق ےکلہ اے ررکات غمکاسزاوار نایا جاے۔ رت 

قاست کارن داٹھی قیاصت کان ہے۔ آفیاب جو چرغ ہنادرم پر چا ہزار سا لکی راو 
پر ہے یل بھراصلہ ہوگا۔ رای ری ٹ گت ہی ںکہ ور اترزں سا نے مل ارشار 
فرایا۔ میس نمی ںکھہ سنا کہ اس سے میل سافت مراد ہے یا یل لہ (یشنی سرمہ وائیٰ 
.گی ملائی) اکر میل سافت مراد ہد فو دى یکبادور ہے آفآب جو پشت کیہ ہوئے “اس رن 
اں ططرف م نہر نے گا" ما ھہکہیں ڈھویڑے نہ لے گا عم پھر کے انی کا ص بکاب 
ہوگا۔ اس دن ن ہکوئی یار ہگ نہ بددگا رن ہکوئی موٹس تہ طز ار۔ شن جن سے امید ایرار ہو 
عق ہے دہ خوداپی پریٹانیوں م سصگھرے ہوں گے۔ "بجومب انکزڈین ایبررأت 
اید ز ضاجٹیم یو لِکُلٍ اشرى يِثوُع َوئین غَأٌتُتيف وی رن 
دی اپے بوائی سے جھاگے گا ایۓے ادر اپ سے انی وید اور اولاد ہت ' ال دن پر 
ای کی شان و لیف ای وی جو دو سرے سے بے تع یکر در ےگی۔ اس دن ققام لوگ 
رت آدم علیہ السلام کے ہا جائجیں گے اورصاکف قواب میں ۶ ”تٹی تی 
ٹوا لی آریخری' حترت فو علیہ السلام کے پال جائی کے دی جواب پانمیں 


م 
2 صخرت آپ رم سید ابرائیم علیہ اللا مکی غدمصت ہیں ماضرہوں گے“ ریای 
اب پا میں گے۔ رت مو علیہ السلام کے پال آننیں گے مگ صاف جواب پئیں 
گے۔ حعفرت می علیہ السلام کے یں حاضرہوں گے نی مش کی ردانہ میں سے...۔ 
آفھ میں آغاب نبوت' اتاب رسلا تکی خدمت میس عاضرہوں گے سب لوگوں کے 
بس بیمں ”اتا لت انا ہیں ے۔ 

کیم اور بی ”'ِدْمَبُوا ای خَيری* 

۱ مرے تر کے ب پٍ ٭ بن 75 
یش ہوں شفاعت کے لے بش ہوں شفاعت کے لیے فور| شفاعت کے لے 
صیتیر ہوں گے؛ رب العزت کے جضور مبرہکریں گے۔ ارٹا وگ ”يَامحتَرِرْتُغ 


ہے فےداظگظم 


راعة ر ٹودکمح رشع ُکق- نے م ور اچم فو 7ر 
تماد ی بات سی جائے گی اور شفاع ت کرو تمماری شفاعت قول ہوگی۔ مور اتری 
می درواز دکھول دیں ے۔ پلراور ایام ایام صفام علا' قاع حفاظط ویر سفارشل 
کی کے اور لوگو ںکو پنوس می داخ لکریں گے'یاا نکادد جہ بن ہکرامیش گے۔ 
متطرات١‏ مھ اں رتےی عدیٹ شفاعت جیا نکرنا مقعصود خییں۔ اس لیے بت ہی 
تق رکر کے اس واق ہک آپ جفرات کے مائنے ذک رکیا ودنہ شفاع تکی عریٹیں بہت 
مطول و مفصل ہیں۔ بے اس وت فتلا ای نر مر لکنا ےک شفاخت کاررواز: قام 
وکوں کے لے ند ہوگا کی ال نہ ہوک ہکس یکی سی کر ےس بکو اٹی اٹ بائی 


۸ھ 


ہی اولین و آفرین 'ایاء د مرسلین سب پریتان عال ہوں گے “یہ رج ہملیار مع وی 


۱ تضوری کے لے ہوگا اور پھر سفان کرنے دالے ہو گے“ سب حضو رکی شد می 


می سخارش یکریں مے اور فط مضور ارس یك جنرت عز تکی بارگاہ مس شفاعت 
فرائیں جے۔ ا یکو اعلی ححضرت قیرس سرو العی: نے قرایا: 
یل ری کی و مفی' بھی ےکی “کمیں بھی بی 
بے بر یکہ خلقی پھربی “کماں سے کماں ' تممارے لیے 
سے مرکا ایک جزو شفاعت ہے۔ مرے سے شر یکو ویک ےکہ اس کا محص لکیا 


-+ 


ےا 

ہے۔ رب العزت بل جلال ہکو سب پھ معلوم “سب کے اعمال معلوم “سب کے اعقادات 
معلومٴ سب کے ال معلوم“ سب کے جکات معلوم' سانات معلوم ”کون سا زرہ ہے؟ 
بس ما ض۳ تل وجود اشیاء“شداوٹر یم کو اس ٭ انت َن یک ثْمال درو پی 
زی زی الگ و مضور ارس میرم کو معلوم ہے 

گنا یر گے والے کے جب ے ز اطا)ٴ 

موی مو قزل و ئل ز ہر خر داشرکی سے 

زشترں کو ہیں ا دوز ۲ س ب گنام روٹیں رر می ں کیا ہرا اہ رام 

فراتے ہی ںکہ حضور انس کیم ایک دن باہ ر نشریف ہے اور تضور علیہ السلو 7 
والسلام کے دوٹوں پاتھوں میں د ہکناٹیں ہیں۔ ج ھکناب داہے پاتھ میں شی ' ا سکی طرف 
اشمار کر کے فرایاءکہ کاب رب العالمی نکی طرف سے ہے اس میں جنمتیوں کے نام 
یں ان کے ہیں کے ام ہیں ٴان کے فبیلہ و خاندان کے نام ہیں ایک ای کر کے سب 
کے نام کے ہو ہیں۔ پھ رانیمیس سب کاٹ لک دی گیا ہے نس مج نہ زیادتی ہی نہ 
ی۔ اور جوکتاب پانمیں پاتھ میں ھی اس کے متحلق فرایارکہ م ےکتاب رب العامی نکی 
طرف سے ہے اس میں نام ہلفمیوں کے ہیں' ان کے باوں کے ہام ہیں “ان کے فبیلہ ر 
خاندان کے نام ہیں۔ سب ایک ای کک کے کیہ ہوے ہیں انی میس سب کاٹ وش لک دیانگیا 
ہے نس می نہ ای کی زیادگی ہوگی'شہ ای کک یکی ہو سی ہے۔ نوز ند اون عالم فرا نا سے | 
”تم فی الْتتو رمق فی الشػی ٹر" ھرانعقار ہزم شرکی ضرورت ہج یکیا ےے۔ 
حٹرکے دن تقر سے جی| نیس زندہہ رکز کے جاہیں جے'ج کہ ا نکی ہے ٴا سکی طرف 
ا لکی رہہری د ہرایت ہو۔ جلھتی جض کی طرف جانمیں' دوزٹی دوزرغ کا تصدکریں ۔گراییا 
لہ ہوگا لہ سب لوگ مان و بریٹان ہوں گے 'عائی دبددگار ڈھونڈتے ہوں گے اور ضور 
ائرں سن کو مقام مور عطا ہوگا یہ وو مقام ہ ےک ققام اولین و آخرین آ پکی مرف 
ککریں گے سب کے پاتھ نیازمندی کے ساتقھ تو رکی طرف یل ہوں گے 

رح ا کر ظغل , طل ء 

کل ریا کہ ان سے من نظر کی سے 


۸ 
بے ان کے و اس کہ راج عطاڑرے 
ا سر ےی ری 
:1 کم زار ٤‏ میں' ےپ یھ رد ییں۔ 
ہر ال مس رارنسی ایت پر گی ے 
بے لک مو شی دای سے دای دےگانگرایں 
کے واسطہ سے دے گا اخیں کے وسیلہ سے دےگا'انیں کے اتھوں سے ٴاسی لیے ریۓے 
دنع اپن ام کے ساتھ ان ںی الکو کرای مت 


گیا رہہرکی فرانا ہے 
سے ےپ 3 
”ولڑ تع ری ما نفق انلفررمرلارتائی متا لد 
اطم 


ماڑیتتا بلڈیۓ کشیبررمرثارٹرتی نل یرہ ُ0" 
”اور اثر وو لو رااشی ہوتے اس پر جھ انی اللہ و رسول نے وا اور 
مگ کہ اللہ ہیں کائی ے“ قریب ہےکہ اللہ و رسول ہ مکو آحیدرو بھی ا 
ال ۓ رے" بے تک ہم اش کی طرف رحب تکرنے دالے یں" 
گنا ہکرت ہیں" مد ادند عاکم اپتی شا نکر یی“ ان فور ر بھی سے منفر تکرنے 
والا ے کناہو ںکو بے والا سے 'گ رکس طرم یو ںکہ ا نکو اپ رس لکی بارگاہ عرش 
اہ جا ہے کہ وہں حاضر ہو اور رسول سے عرت کرد“ رسول تما ی مففرت کی رتا 
یں اپ ےکنا ا ما شل چاہو تو ایل کو تر پاگے۔ 
1ت نع رد نٹ اَنْفُمُُع 2 ع225 تا تمٹکٹر الہ 
متَمْفرلوع ہم لک وَحدُرااللُّنُواہائگیٹٹاہ 
او ر٠‏ آلر لوگ انی جنوں پر خح مکریں؛ ین گناہ کے ہرس کب ہوں تو 
رسو لک بارگلہ میں عاضر ہوں اور خدا سے کش چایں اور مخفرت پاوں 
ان کے لیے رسول' تق ضرور نداکو لج تورم انیس ےر * 
اس خکیب سےےگناہو ںکی مخفرت انی ے_-_-.٠‏ 
رم لئے آپے ہیں کان زک گا ے گرا 


۱ 


٣ن‏ کی کا دو کک ے 
ہکیاےٴائی عدریث ابن کی تقمدبی ہے کہ اے موب میں تممارے لیے 
زشین پھاتا ہوں' مس تممارے لی دریا موجز نکر ہوں' میں خممارے لیے جزاو مزا مقرر 
کر ہوں۔ رض جو پگ ھکیا جو ان ھکر ا ہوں' جو بج ھکروں گا سب تممارے کیا" 
تہیں سب نزو ںکی علت خائی ہو“ تمماریی بی شمان کا اہ کرنا اور تجممارے ہی رحب کا عالم 
آکا رکرنا ان سب زوں سے مور ے- 
نط اتی خرضشل سے النتظر ب"م مثر سے 
تنماری ان مول تال ہانے رال سے 
مر سی مور ہمحر وم ار تا نعطو 
ارک رَحَلغ ۱ ٰ' 
ممزر خرات١‏ اور اکر علت سے علت مادی ھرار لیں' جب بھی کن ہے۔ 
بل زا اپنے مصنف میں عضرت جابر رض اللہ نال عنہ سے ودئی عدیث یس ہ ےک 
تضور اررں ‏ یم نے انیں قاط بکر کے ارشاد فا یاکہ: 
ام رئرڈ لد علق قب اکٹھایئورجگیزٹز,نعتز 
ڈکک المْرريدوْرابالْتدرۃعَبث شا الع کی ذیكا 


کرت ٭ 


وج وَلائک ول جم ڈو لان ولا ملک لاسما ول ازتع ول شش دع و 
ْ ا موا جَؤ رت رن تُگآرا2:دلر مِمنع: ْحَلر تَك 
ذلیکٴ التَوْژ باَرتَمَةَآَخْرَاءَ فَعَلَقَ کل يالہُژوالاولِ ۰ 


ہو٢‏ رشےے ‫ ت‫ ر3 پت سے قشےرے ا ٌُ‫ 
اللزح وَيِںّ الثائث'العزش ”نع الج پت 
سے 


‫ٌُ 

گوعر2 ۶ھھ 

اژیَمَ اجْراء فَخْلقٌ یِنَ ول 8.04 22 ٤‏ الاڈ 

عم اغھ و ٠‏ ْْ لا ہے م 
٤‏ صا َء "ہ.۔۔ یق ٤سس‏ ا کی 

الکكڑی ور الخا بی 1 الیگ نم فگ ال راب ع اربعه 

رر ہے .۸ ے 2 

اَجْرَا٤فَخَلَقٌ‏ من اذہل١‏ سش ت٭ وم التَازش الَأَرْطِمِیٗ وین 

71 ٌ 
ت‫ ایت 2 ٥‏ ےی ے ٠۸4‏ ہ 
سس سی گا ہ۔ یو یس 





: 
َو یہ لله رِأّالة مْعَمَة رو الو (صلی اللہ عب 
وسلم) ۱ 

نی حطرت جار ین ممبدائشہ انسارئی رضی اللہ تالی ععنہ ککتے ہیں 'کہ میں تے ما 
میرنے ماں باپ جتضور پر قریان ہوں' یا رسول اللہ مھ خردہچےکہ اڈ تاٹی نے سب سے 
نکیا با کیا ارشار الہ اے جابرا بے شک اللہ تال نے تام چزوں کے قب جیرے 
بی کانوزاپنے ور سے پیداکیاق دہ ور قدرت وہای سے گش تکر' جراں ند ا پاتا؟ٴاں 
وت میں ئہ لو کا وجرو قاان تم قاظ نےکر روز٤ر‏ ار انار زی نر 
تاب نہ ایتاب' نہ جن نہ انں۔ تر جب الہ تھا نے چا)ک۔ لوق تک پیراکرے'ا 
نو رک چار جج کید بے سے قلم' دوسرے سے لوم جیمرے سے عرش مایا ادر چو تھے جزر 
کو پچ چار ‏ ےکیا۔ الیک سے عالمان عرش 'دوسرے ےکر * سرے سے ابقید لائلہ پا 
فراۓ۔ تےکر چار جھےکیا۔ پل سے آ من ' دو سرے سے زین ' تیسرے سے خقت 
و روز بدا ی۔ مرو ےکر چار نے گیا۔ طُُ ہے مسلماو ںکی آگھکافوروومرے سے 
سلمافوں کے دل کافور سمرفت بلل ' تیسرے سے ا نکی زین کاخور نیشن نومیر لال ِا 

الثَامْمَْڈٹرل یر میم اپدا زایا" ٰ 
اں حدیث سے صاف معلوم ہواکہ تام پیڑوں کی پیدائٹی فور محر رسول ال 
موم سے ہے اور آمان رشن ادرھھ ان ورنوں میں یں“ فرش ت'روزغ عرش 
ری دکیرد درو سب فور جھ رسول اللہ ہچیچ ت لوق ہوئے“ اور حور یی کا فور 
سب کے جے ارہ ہے تر حضور سب کے لیے علت ماوی ہوے۔ البت1 اس کہ ایک شر 
ہر سنا ہے کہ اس عدیث سے جس ملوم ہوا کہ سب بیزیں تضور ادس 
ڑل کے فور سے پا گی 'اس طرع معلوم ہواکہ تقو کافور فور ای سے پا ہوا 
ہے چا ہے کہ ور اٹی سب کا ادہ ہو "لین چرکمہ ہہ اھ قد میں حابت ہے کہ اللہ 
تھی ارہ و ادیات مت متزو و سضر ہے' ق اس کا مطلب بہ ہو گا کہ ایڈ نال نے ور مر 
می اپ فور ست پی انی ا نکی تلیق می سکی ک واسطہ اور زردیہ میں ا" 
گی رگ خفور اندیس زیم تام لوق کے ذربیہ اور داسطمد دصول اىھی ہیں او رکوئی چز 





۱ 

جشور علیہ الصلو ۃ والسلام کے لیے نرے ای کے بے میں واسلہ لود وم لہ غمی ںا 
یے دول مفلوق کے متعلق اکر چہ تعدد روایات ہیں۔ اض مں ے ”اود ما عَکَنٌ الله 
تُوریٰ" ضس میں ہ ٭ اوت علق اللہ لقع مض مں سے ”ون تا عَلَنَ 
الع اش اض مں ے ٭ؤن سا مکی اللہ افت|ت) “مر ماف کرام ان میں 
لبق اس طرح رت ہیں ”کہ اول الاشیاء علی الاطلاق نور مھ (ص۳لی الہ تعائی علیہ ولم) 
ہے“ پچ رای ہے' پچ عرش ہے پچ تلم سے تو اولیت فور حضور اقدس کیم میں تفقی ہے 
اور بقیہ میں اضالٰ۔ ْ 

اس حریٹ سے بت تی واتجع طور بر جابت ہواکہ عرش وکرسیٴ لوج و کم ' سان و 
زڈٹن' نت ر روز اور مامان ‏ ش٘ٴ' لہ لا“ مسآآانوں کے ٢‏ ھوں کا ور“ رل کا ور“ 
زا نکافور“سب ٹور مھ رسول اللہ میم سے بیاگیا اور رسول انل کافور ہب کے لیے 
عللت مارگی ہوا اور گر لنظ "من" سے علت صوربی مرار میا جائے “جب بھی تضور ازنرل 
ا سب پچزوں کے ہوں یا نہ ہوں ممگرانسان کے لیے تو ضرور علت صوربی ہیں اور 
عحدیث "إنٌ اللہ شَلَی دم می رم" گاہس طرح یہ طلب مضمور سے کہ الہ 
نفاٹی نے آوم علیہ الا مکو اپنی صورت پر پر اکیا عالالہ ال مع میں ایک دقت اور 
جو یل کی عابجت سے لین اگر خمیم ور مضور میای کی طرف بچھیری جائۓ مجن بے 
کک الد نے آدم علیہ السلا مکو صورت مر ا بر ایق اس مس کولی وقت یں 
اں لی ےکہ رسول اللہ کی گر چہ بعشت کے انقبار سے متاخ ہیں نر غلقت کے انقبار 
سے مقدم ہیں۔ 

حدیث میں ہے "شش تَا ود بیشن الْسًاو الین" می اس وقت ئی 
امہ آوم علیہ السام لی اور می کے در مان می تین ان کا کاب بھی تار نہ ہوا تا" 
ق ان کا ابد حضور ارس می کی صورت کے مطابق تا رکیاگیا۔ علامہ این امیر الیاع 
لی عبدری ول میں فریاتے ہ ںکہ عنرت سیدنا آرم علیہ الام جب ایت شوق میں 
ضور اقس یم کو بارکرتے فو ان لفقوں بیس ندا فراتے ”با ان مر وانائی 
مشش" اے ظاہر یش میرے بے اور عقیقت میں میرے باپ' ن بنا اپنے ا پ کی 





۲۲ 
صسورت پ ہو و بکی بات خی“ کہ ما ایاعی ہو ہے۔ بی کو تہ سیری ھریی 
فارش اپنے مور تصیدہ آآئہ متیہ میں طور ای مل گی زیلن سے ذراتے ں: 
و این و ان کُشث ابی 241 مور 
تعلیی ضور ننس مک فراتے ہی کہ می اگرچ ظاہر میں آد مکی 
ارلار ہوں؟ یکن بے میں ان کے متلن اے ارصا اور علقات یں جر 
ممیرے باپ ہونے پر شار ہیں" ۱ 
ان کادتود میرے سبب سے ہوا ا نکی صورت میری صورت پ بی ا یکو ال 
طرت فرس مردلھی" اپنے ”تی رید '' می پہ "حور جان و" ںات جا 
ا کا ئن ان کی وت سے سب کو عام 
موی اس ے ری نے 
ظاہر میں مر بپچھورل حیقت مں پیرے ئل 
ای تع کی ارام بے مدا ابوالیٹر ی ے 
ای کے علاوہ گر آدم و اولا آدم کانھاہری مضہ دیکھا جائے قڑ جن وی و" 4 
اھ رھک چار زافو چا ہے “نر صاف صورت مھ ظاہرہوتی ہے۔ راس کائم اود اج خ 
کی شش مر ددسری یم لوپ کی شع دال ہے۔ 7ن بد حَلَی 2 لی 
شرع مطلب دا ےک اللہ تا نے آدم علیہ السا مکداس طرح م کیک بت ۱ 
سے رت تج ظاہرو یاں ہے ' اور تضور ار ا کا ام پاک لگھنا ہدنائۃ پر نر 
امت ہے۔ نی اور اکم کی حدیٹ سے عبت ےکم آدم علیہ السلام نے بھشت کے 
پالوں'وروں' طا ئل سب پآ نام انز ں کل اللہ شال علیہ و لم“ نام الی کے سا کی 
ا۔ سیر حلبی میں کہ من ۴۵۴ می بمقام خراسان ایی خت ہوا مج کہ لوگوں کو 
ناک اپ ات قائ رلی۔ وک لف ازْ انان ے زز وجب رول بر 
ول اں طرف مھ ہوقے' جاک دی ای بگز لا لیک پچھ ہے جس پر لم قررت 
سے دو میں ای ہیں۔ سطراول ”لہ رڈۂ اب" مطردوم پ "مم 


۱ ۲۳ 
رس اللءالْفَْتْىٍيٌ" ۱ 

ند سا لکی بات ےکہ ثی دی می ججوگو نحنٹی عمارتیں نے کین ایک چچھ رہ 
کے زربیہ را جار| تھا۔ جب دو ککڑے ہوںئے کیا ویھت ہی ںکہ خا جلی می ہککھا بے" 
انب خانہ میں رکا کیا سے اور ا سکافو وکاڑت سے لیاکیاہے جو قریب قیب برشر 
میس پنیا ہوا ے۔ آپ کے شمرپڈنہ لہ شا نکی شفی مور میں بھی اس کافوٹو موجود ےد . 
۵ن مل بعد مغرب چند سن متاروں سے تضور اندں سم لت اک یکتوب ویکھاگیا 
ہے۔ صے مولان قاضی اسان ال صاحب ہراہگی ج کزشتہ سال آپ کے ری شریف میں 
تتٹریف لا تے۔ انموں نے بر سودد ہیں اپتے دوستوں کے ساتھ دیگعا ای دن جرگ 
ریف میس بھی بمت سے ہندد اور سلرانوں نے دیناکہ رای سارہ برتگ ج زفورار با“ 
نس سے مرف مم اہر ہوا پر م* پچ مم * چھردال اور ہلل نام اگ مھ گی نمایاں 
طور بر اہر ہدکیاادر دے تگ ائم را اس واقعہ سے پجھ ف1 بض اررراخپاروں ش شال 
ہوا زا کہ بعض ۔واعل بر ایک می ریم گی جس کے ایک جانب * ںہ لاگ “ھا 
ئا ززمری رف مجن اٹول لیے" دہ مچپلی سالہ سے ورس تہکر کے لندن 
کے خیائتب خانہ می رکہ دب یپگئی ہے اس ش مکی ایک ردایت شرح شفامس بھی ہے۔ 

بعض علاء نے نضور کے نام ابی کا جیب لطیفہ با نکیا ہے 'کہ ہرترے نام اگ مھ 
رسول الہ کے در ۹۲ اہر ہوتے ہیں۔ ال کا قاعدہ ىہ ےک جو چچپرلو ا جو لفظ 
خیا لگروٴ پا ےکی زان کا م لی" اری' اررو یا او رکرلی زان ہو“ اں کے اعرار اپر کے 
تاود, سے ژ_یالی کر عدر خلذائۓ راشمدین یں جو "٣‏ ہے" ضرب رو“ عاصصل غرب مل عدہ 
ان انان نی ٢م‏ کر ا سکو چنن اگ کے عدد ٣ین‏ ضرب دییں۔ ا کو عدد بدوعپ چھ ' 
صوفہ کے نزریک اللہ توائ کا ہام سے تی مکریں۔ جو اتی رہے ا سکو عدد فو طبقی سن 
میں قرب و ےکرعالم علدی و فی یی اس پر اضافہکرہیں۔ دد اسم پک مھ ظا رہدگا۔ 

اب ر وگیاعلت کے اقمام مم سے عللت ڈاعلی ۔ ہم لوگوں کے عقید و میں فاعل مقار 
ام چو ں کا صرف زات پاگ ومد :ا شریک ہے۔ اس لیے ہ مکی چیزکو علت اتی انے 
کے لے جار نیں۔ اکر چہ از | اییااطاتی ترآن ر مرعث مں وارد ے ۔ قَالَ اك 








2 
ثفائی اَی تر ٹاییلی علییایکٹرثو شک -- 
گگرمییرٹوی  ٠.‏ 
نم پا کر ہوں تممارے لے کی سے پرئدہ گی صرت' یش پھ وک 
ماما وں ایس میں 'نو اہ سے 21 سے پلدہ ہو چا ے۹ 
اس بل رت راچ علیہ السلام کا ارب فداوند عالم کے مھ قائل دید ہے۔ 
نی فرایا ان اضق یع تج الکن ڑاگ تمارے لے می سے ریو 
پداکرما ہوں'' بلکہ ہیں ڈراک مل پ ند ہکی نل د صورت جن ہوں اور اس می پ رک 
مار ما ہیں و اہ کم سے پندہ ہو جم ہے۔ اس لیے میں سوائے الہ تال ےک یک 
علت فائی نس جادادر لی قرعید سی ہے۔ جو ابی سفت د جماعت او ہرگر وو صوفیودگرام 
اشعارے۔ ۱ ۱ ۱ 
اس مگ شاید بل حفرات کے ول میں نے ا لکزر ےک تققی تھی کیا ری 
زگ نع بھی ہوکی بے؟ اد رکیا نید کے بھی اقسام یں؟ و تواب اس کاانات میں ہے۔ 
رید پا نع مکی ہے۔ اول: فآحید ائالی "لے الک شک" یھی ''خدا کے سوا کوئی مب 
میں'۔ جو یس دا کے سای در ےکا عبادتکرے گا حید اھائی سے پاہر ہو 
جاۓ گا۔ کی 9حیر ایان ہے دوم: زیر اصالی "لأمَزمزکْرڈلڈہر صوفیائ کرام 
لد ست | سام کامسلف جے۔ بے دوفو قحیاری عق ہیں۔ تیرکی: قآعید اڑل جس کے 
جب شرلہ اپے آ پکگو الاب العدل دالتوحید کت ہیں اللہ تالق سے اور ا سک 


[ مفات پا لکہ تعدد ما لازم نہ آے۔ مار زیر بد یکہ ال کو مان اذر ال کے سوا 


گزن مان اہی کی یم دٹ کی لا کاب (اسائول داد کی تی ایا میں ے۔ 
ای لیے ا سکتا بکوماسنۓ دالے اپنے آ پکو مور کۓ ہیں۔ :ید اتھادی جس کے 
×کی صحوفہ فمدین ہی ںکہ میں بھی خدا در ق گی ندا۔ انموں نے وجدت واتمار میں فر 
ا زس او ضردر جن سے اور اتھار انا ناجانز و ترام۔ صوفہ سے بڑ دک رکون مور 
ول لود ان کی سے لور درققت سو دی ہ کہ قعید کے راب بد 


۵ ۔. 
کاربثر ہو۔ے 
ان کے یہاں توعد کے تین ھراتب ہیں۔ اول: تحید نی الافعال مڑنی سالک اپ اور 
قام عالم کے انقیار کے باہرہو ازر جھ حرکات و سنا تکہ اپے اود دوسرے کے کھت تھا" 
ان س بکو جن تعالی سے جانے' اور نقالی طرف فذبب تککرے اور انی اور لوگو ںکی 
کت کاخ لکر ےکہ "موہ رت ضال "سج ٰ 
رگ دب غو ور جماں سے گزرر 
وؤر ے کفد و باد بر عنام ماہ 
روم: زمر بی السفات لی ای اور دوسرو ں کی صفات “نی ۳ راراؤ “یت و 
تزرت' سح و بص ر کلام خی یکو >ے عام لوگ اور لوگو ںکی طرف فبع تکیاکرتے ہیں ان 
س بکو عم کی طرف سے بد تکرے اور صفات جم جعانہ د تھالی جاے “اس کے ڈرا سا 
نوا فکرنے بر صوفیہ سےعگرف تک جائی ہے۔ رت سلطان العار ٹین خواجہ پایزید .سطائی 
کے عال می سکاینا سے بک جب ا نکااتقال ہوااور مد اون عالم کے نذدیک ا نکی روح حاضر 
ہوگ یق رب العدزت نے پچ چا میرے نکیا تفہ لائے؟ انموں نے عر کی مد اود 
ویر آوروو ام'' تواب مں ارشار برا ٣گ‏ لَعْلَ ا ٌُ تر "لژنی اس ش بک بات یاد 
گر کہ تٌ نے رورھ پا تھا' تمارے پیٹ مل درر ہا لوگں نے پ پا" یٹ مں آپ کے 
در وکس طرح ہوا؟ تم نے جواب دیاکہ مل نے دودھ پا تھا۔ 
۱ کر ۴رۓ و ملفتے اەت إالزات 
کہ ایر اسقاظ ‏ لاغانات 
تیسرا مرتبہ فوحید ئی الزات گا ے'لڑٹنی سالک اپنے اور اپنے سوا جن لوگو ںکو وہ 
موجور چان او رکتا سے س بکو سلب مل جھے اور صرف ایک زات ودہ لا شری کو 
“وجور ہاے 'س بکو ظلال و عکوس ای ذات کاشی نکرے۔ 
ہر6 پ ى اء بت ااء شت 
یر پر جنر مم مر سے ار ض٥ت‏ 


7 


گل پمان مرل یں تج روستد 











٢ 
ہہ چہ ہی زاگ"ہ :ظر اوست‎ 

ای خئے بزرگان دین فراتے ہیک صولی دہ نیس جو چلہ اور وبائشت مل رن 
کائے۔ صوئی آس تکہ نود ”ئل خی ماک ڈرۂ "اللہ تعالی اپنے عجیب پاکگ 

7 داولیا اللہ کے ٹل د برکت سے ہم سب لوگو ںکواس مرحبہ علیاب ہے 
صطظرات لفظ "من "کے سعالی اود بھی ہیں اور ان سے بھی اوصاف حضور ری 
موم نخاہرر ہویرا۔ ین ایک ایک لف کے یچ کی کئی سال کا دقت آپ لوکوں کالینا 

یں چاتاہوں۔ ای لے اب با خاس ات معراع کے یا نکرکے ال واقہ مرا 
کا مان مناسب “علوم ہو ما ہے“ اور زندگی سب لوگو ںکی کی ہے تہ دہ مل السجدلھام 

کے متعلق مضائین ان :وں گٌ۔ 
فلا فہمکم تک یکتابوں مس جرک تکی بج مس گت ہک *ڑ کک گؤنان 
فی تن بی تگائین' کو مہ 'دد آن میں' دو مکان میں' یش می 
ارد آن مس ' دو عکان میں ہون ہے کت ہے۔ اور وو آن می ایک بی مان میں رتا 
کون ہے۔ اور مت کے لیے چھ چیزوں کا ہنا ضرورىی قرار ریت ہیں ا ادل: .رگ و 
مرکتے رۓ والا پر۔ روم: محرک جو جک تکرے۔ سوم: مبداء جہماں سے ترکت ہو 
چمارم: صصمی جس طرف کت واقح ہو۔ جم ساات جماں رت داقع ہو۔ شش زان 
جس زانہ میں ھکت (ائع ہو۔ _یکین تق رآن شریف کا ففہ ہقہ اس لہ سے بمت پڑا ہوا 
ہکا آ کیہ می فک تک چھووں پڑو وم نک کے الیک میں ےا ظا 
بھی غراا۔ کہ معلوم ہو کہ حرکت کے لج مات چو ں کی ضرورت ہے۔ شم ا 
لی ای اےے۔ضق یہ امراء راع میں مضور کا تخریف نے جانا خوز اپی 
بش پا فزت نوے سے ٹنیس ہوا بلہ لے جانے والی ا یک وہ زات ت ہے جو نام میوپ و 
ناش ہے ےا اب اس کے مععلق جو لیر بے و خی ہو 'خداوند عال مکی ذثدرت 
کال یز پے نظ رکرتے ہو ےکر چاے۔ 

اگ ہکوئی زا یک تر رت س ےگوئی باہر جالع چون و جاک سکماے کور دہ 
مان زا نکھو ل ےک یکنیائکٹی میں _* یا رک کایان ہے ۔ خد اون ءال نے یر 


۲ 
رائی یک یم سک ۶ہ ہدرم رسول اللہ مل کو جو ساپ ائجاز ہیں۔ ج نکی صدرت 
3 سی سر مج کی راکش مز جن کشر فماسٹجزوجی نکی انامت کجزہ 
تس کا تقڑی نز جن کے افعال' کات“ صگنات مجزہ۔ مد اون عالم ادر ہ ےکہ اکر 
پا تو بے سے بڑے باڑجن میں زا تق رک تک ہلل ملاحیت خضں 'آن کے آن ش 
ذں سے ماے “نے جامے مرا پور 'کرائے۔ پچ اکر عضو را ھا یک 
ے یا تو ٹڑی سی رات یش "کیٹ لی جوین تقیں سے لیے ہے۔ بتض لو کت یں 
اس قتقبل رات می سک دای کے وت ب مہا رگم قا'درداز ےک اکنڈیل 
ری تی" امج انعترامی ایالحز سج کامیان سے نی سے سیرکماں 
سے شرو) بدئی' سور رام ے۔ مم درتی اڑكمحجد الانملی ے ما اِلّبْ 

الْحَرگ یان ہے۔ نی مرکم تم رف ہوگی؟کدم ؛ئی؟ شتم مایٹر 
رڈ دع ات صو رام وص ایی ہے۔ قرآن شریف نے ایک ادر شرورقا بات ْ 
زیادہ فا نریڈ ے! ات "تاکز دکھامیں ہم ا نکوا لی نانیاں نی خر وخاعت 
ترک *یہ مرگ رانا ند اونعا مکا اہن عیب مھ رسول اللہ یم کو شب میں مھ قام 
ہے صیمق جیںنے چا 'اس مقصدوفابیت کے لے بواکہ کنا اللہ تا ا نکوا ہی 
رت کے نات اور تیاتب و راب کوجات 'اس کنب یم بل جو انل ہاور 
اآپ راگ نے امیر عزام س ےکیوں وا وا ؟ اود متراع کہ مظظے ےکوں 
مور پزم +دلی؟ رین طیہ ہی ںکیوں نم ہوگی؟ علا ےگرام انس یں مات معئی ے یان 
کمرے یس لک ار معراج ینہ طیہ سے ہوقی ق باہو ضز کی ش۲ ج کہ عظر اور من“ 
طیبہ کے ررمیان ے' تضور کے تقر مو ںکی برکت اور ال و رک شمائول سے موم رہ 
جاتی۔ تضو رکا فی عام ہونے سے لے مور تام سے معراج میں تشریف لے جا بدا۔ 
دوصری وجہ ا لکی بی بھی ہو تی ہب ےک رین می میس مضور بر انان لانے والے بت 
کڑت سے ہرے۔ اگر واں محراع ہوک اور ضور ا سک بیان فراے' سب مان 
”تَا رَمَ٤ّثنا"‏ بت ین وا کہ متا کہ جناب من ابی جماعت میں یٹ ھکر جو چا" 





2 

کی دی اپکی جماعت نے مد کی ' لف فکی بات جب ت یک مخاغین کے بجع میں اس کا 
دوٹ کیا جا اور دہ لوگ اسے تل مکرتے۔ ای لیے یہ واقہککہ مع میں پیٹی کی اور 
موی لاف سب کے ماصنے مضور نے مان فمایاموانین نے صلی مکیا. میں نے پلہ 
معف کہ اڑا پھر ررشن نشان صداقت دک تلق پہ جبور ہوے۔ 

یل ان لوگوں نے مچھاکہ کہ معتم سے بیت ادس ایک ممینہکی راو ے7 
آع و رفت کے لیے رو سی کا زان پایے۔اسے حضودرننے تھو ڑی دی می نے فرایا۔ نے 
انگل غاف تل اور فلد ے۔ پھ سوج ما جک یہ قوار دیاکہ کس طرح گے" کسے ہے ؟ 
کوٹ چیزٹیں۔ دیکناہ ہ ےکہ آپ گے ما ٹیل دہ لوگ جانے ےہ حضور اتری 
یم ذ مر بھی یت القدی یں تریف لے گے ں' اکر آ کی رات ال 
ریف لے گے ہیں اس کا نقشہ اس کے بیات منار دن دکی حمات شرور با نکر سے 
یں ان با ںکو چنا شر کیاکہ دا کے درہیں؟ من رکتا انچ ہے؟ وسعت اس مس 
کی پے؟ ویر خر 

لالہ سے پائل عامیانہ بات ہ کہ آد یی مکان می جا ہے تر ا کی نیت 
لف ہوتی یں۔ بھی جخافائی حیثیت ''ا نی شان سے انس نکی ما نکو کے“ 
ا کی نثاہ ان پا ںکی طرف ہوکی ہے کہ ارت من ی ادگ ہے ؟ دو اریں نی موئی ہیں ؟ 
مارت کا طول مس در ہے؟ مر لککتا ہے؟ کت در ہیں؟ کے طاقی ہیں؟ نیاوی 
حراایں ہیں؟ اور جھ نخس کسی دوس ری فرن س گیا ہو ا لکی فجہ ہرگ ان چڑوں کی 
طرف نیس :وی ہم لوگ اس خالقہ یں تی دہ آئے ہیں دس می ںیا سو رو سو مر 
تہ بھی زیادد۔ لی لوگوں کا آنا دا وگا؟ لین اگ رکوئی مخنیس اس جل۔ سے ان کے 
بعد یپ کہ اس کے ہانے نے ارچ ہیں؟ کی بی خاللہ ہے ؟ کی چدڑی ے؟ اس 
شی تی شتھ میں ہیں؟ کن یکڑیاں ہیں؟ کت از ہیں؟ کت فنوس ہیں ؟ ت شاید ج یکرئی 
دی سب پا کو پر رے طور سے جا گے لگن ان لوگوں کے معاوات اسی تر جے 

ںًُ٘ نکر پرکس جقرر ہمت ارست 
و لوگ ای سے زبادہ ند پرداڑ یکر ی یں ھت تھے۔ عدیٹث شریف میں ےکر 


بب فا لڑں نے بے سے بت لی ےن ا ںی با ت' ا سک عاات دریائت 
با شر خی نے جج خت پریٹانی ہوگی کہ ای گی ائی کے وت کیا میری حیفیت یی تی؟ 
زور ادگ رف متوجہ ہو اور ای جمت اح عر ف/]' اور گر جواپ میں 
رچاہرں دجو ریہ می سا ہوں اور داش بیت القد لت گیا" ال م۱ (چقراض انا 
برانی پانرعا اع افیام میں آیا ا اویل سب لوگوں کا۸ ام ین“ ا نکو نماز بای" ونس نول 
کجھیں ےک ان کاکنن ملط ہے۔ بیت المقدسی خی تریں لے گۓ؛ ورد اں ےۓ 
عالات نقشہ وغیرو با نکر رن۔ اے می ںکیا دیھت ہی ںکہ نیل ائین علیہ الام میت 
القد یکو اپے شال لیت ہوۓے عاضرہوئے اور بیت ا مق سکو میرے سا ےکردیا۔ اپ 
گھاے' یھ دو لوگ پ یھ رہ ہیں" می پرہزکر دکھ کرات جا تب ان 
غمارت کے نشامات مد رگا تکیب اور بات ینارے اور ہرتوں 11 نورار سب تارب وو : 
ىہ م نکر مالین ناموش ہو سن اور ار کر پا گہ بے کک مضور بت مقر گک گ 
اور بغی رگ ہوئے ری اس طر حعکی ہک یہ ہی ںکھیے کا سب پانیں کا ایاج 
جواب نمیں رے لت ٹس میں پل براب گی فرق ۔ پڑے۔ "وَالْتَسْلَ ا شَيِڈٹُ 

دہ و بے الین کا صلیم و اتا ہکن" خی کے ہار مرعہ ضلیم سے با ھکر ہے" 
ابی لیے معرا جبکہ مع سے بوئی' نہ رین ظیہ سے۔ ۱ 

ہنا اس کہ ایک شبہ ہوسکما ےکساج اعازیٹ سے ابت ہے کہ مضورکاشب 
بک سر ے یف نے اف مر ک. ہق کہ وا سے ۱ 
صعازات شلل' منام نشتزی' مُتْفَلغ اهت ایں دال' ئئی' تتڈٹّی 
تُگانَ تَابَ تَوْمَنِ اَؤاڈُنٰی" ی :یئ دس کا 2 کیارہ 
سے اور جب جانا ا لے جانا“ آسافوں کک اور اس کے اویر تھا تو کہ مظم سے میت 
التری' پھرواں ے آسائوں کے اور لے نے می ںکیا مصلحت ہے ؟کیوں نمی غانہ 
کعہہ بی سے سید ھے آسانو ںکی سیرکرائیگئی؟ 

و جات اصل ےر ےگ فداون عم کے سب کام کمت سے ہوتتے ہیں۔ معرا ع کا 
واقعہ اییا ےک بتیرے ہو سے کی ہو لوگوں کے عقل ہیں میں آ نہ عرب کے 


۱ ۲۳ 
یپارے جال لوگ ا سک وکس طرح سنہ سے تھے؟ اور ا نکی عقلوں میں اتی وع تکماں 
جو مھ گھیں؟ کہ ایک انسان اپنے قوائے یشری دجسم منشری کے سا تھو کی سی دہ میں 
آسانوں کے اوپر جا اور پڑاروں سا لکی مسافت تل کر کے ' سب بکتھ دک بھا یکر والئیں 
آ جاے۔ اکر دہ بجھنا بھی چاتے اور داغ پر زور بھی ڈالے' کوئی زان کے دا کو تیز 
کرنے والی اور اس واقعہ سے قری بکرنے والی نہ شی “نس سے وو اس پا تکو سے میں 
اور یہ بات ا نکی عمقلوں میس آ گے۔ اس لیے اللہ قالی اسراء و محراح میں کہ معظم سے 
لے بیت اللقدس ل گیا پھرواں سے ال ماشاء اللہ تھاٹی سی رکرائی مکہ ا ںکی صدات تکو 
یھ یل سے معلو مکر یں وو لوگ بیت المقدس بار ا گے ہوئے تھے ' وہ ں کانقنشہ ان 
کے پیش نظرتھا۔ منارٴ محراب سب ان کے دائموں میں ضقش تے اور ماق مائقہ سے بھی 

جائج ہے لہ تضور اندں یم بیت ال قد ںی بھی تٹریف یں لے مگ 

ٹپ ان لٗوں کے عوال پر داں کے عالات 'کیفیات اور ار تڑ ان کے سا 
کر رک دبا/جس سے نقی نک میاکہ ہے ضرور سے ہیں بے گے ہو ےکوئی مس اس 
قد مع و ٠ن‏ لہ عالات وکیفیات خی جیا نکر سکتا تو اس سے اس قزر ا نکو بے کا 
موقعہ مل مکنا کہ بن زانہ مھ ضکہ شر موثرکار ہے“ نہ ہوائی ماشہ گی کی طات| ' 
کوگی سراری ران زرل َرورَذك* نا ارٹٹ ے جو اں سا تک آرورثت مل رو ار 
سے ذیادہ میں ٹ ےکا ہے اور ان یکو انموں نے یی طاقت سے رات می لٹ ےکیا نس کا 
وت ان لوگوں نے انی عقلوں کے مطاإت پیا ٠نس‏ سے الک رک یکول ی وجہ نہ تھی زاب 
گر حصبیت ک رد انی عفلوں سے اٹھائیں کے“ ق اس قدر مجھ بت و ںہ جب اتی 
صسافت زراد می انموں نے فی عکر ی' ور اکر آسانوں بر بھی گے گے ہوں لو تجی نہیں 

علادہ بریں دنا بیس اسلابی رارالسلطنت' رارالوت و الرممالت ہون ےکی لات 
انہیں جن شمرو ںکو ہے۔ کہ معظر جو حضور اکرم صلی ادڈہ قالی علیہ و سلم کا مور و مصکن 
اور نضرت ابرائیم و ایل ملماالسلام اور تضور انل ا کا قبلہ ہے۔ رین طیبہ جو 
تضور کا مرنہ د بدفن اور قیامت تک کے لیے آرام گاو ہے“ جیت المقدىئ جو انمیائۓے 
اسرائیلین کا قبلہ ہے “جو ضور کے قضہ واقتزار میں آیا اور سولہ یا صز؛ مود تک تو رکا 


۳ 
لہ بھی رپا اور قاعدہکی بات ہ ےک بادشاہ جب سی رکو جانا سے ' نز ہرمممہ نیس جایاکر' 
ان مور مور ہل شرور رتا ہے۔ اس لی ضردر بداکہ کہ معظر سے ہہ طر شروع 
کیا جائۓ' راستہ میں امس خائس مجہوں کے علاوہ رین طیبہ میس نزول اجلال فرایا جاۓ“ 
پچھرمیت الترں 7 ۲م انھیاۓ تی اسرائحل کا واراساطنت وش رہلومت بإٗہں ال 
سب حطفرا کی موجووگی بی میس ش نشی کاخطبہ پڑھا جائے “اور ہے سب ہعفرات لصانہ 
حیثیت سے فرانردارانہ طریقہ پر مور کا شی رمقدم فراتھیں۔ وہ امام ہوں' ہے سب لوگ 
عقمفری مب نکر ان کے سے مازیڑھیں- 
ماز انی مس تھا بی سر میاں ہوں می اول آخ 
کہ دست بس ہیں یہ حاط رج سللفت آک ےک رع سے .- ۔ 
از آو و خلپ ہس ثرر زوررار ے؟ ۱ 
َنْحنڈیڈر گر اَرصتیز:خعڈلِلعتَيبو اك ) 


ہے دئثت“ 


بشیرا وَنَْبراہ 
نا ف ال سب رفس ال کے لے یں جس نے ب ھکر مارے زان 
کے لے رحمت بناکر مھا" اور قام لوگو ںکو خوشپْرکی ریے والا اور ڈر سنانے 


رال 0۰ 


ے اور بر 2 اب ئن روۓ زشن پر ابر ہل" 
رَحَکَلَاِْرْأُکَڈوَمْں َحَمَل اَی مُ الاو لَوَالیرُونَ٥‏ 
”اور موی امت کو امت عادل بتایا اور میری امت کو نقزم خلق میں 
أول اور وخورشیں سب سے آث ہا" 


2 


او۔ مب 2 ٴ 
جَعَلنی تَايِمَاوَمَایٹا 


۳٢ 
”اور میرے لیے میرا ہی حول دا اور تگھ سے مرا بوتھ اار ریا اور‎ 
میرے لیے مرا جکر بن رکیا اور ش ناتقہ ابواب بدت و انم لوان رمالت‎ 
نایا"‎ 
بج وقت ہے زوررار خطبہ تضور ات ول شی ارخاد فرا رہے تے' انھیائۓ عم‎ 
بپہ الیک فا صکیغیت طارکی تھی۔ فرت سید ناابرائیم علیہ الصلو زم اٹ کر قماا‎ 
مھ ےکوی‎ 7 ٠ ِهٰذا تَشْلَكُغ مُحَمّد ممکد اق اللع ان‎ 


0-2 0-7 ُھ, رظ سے ۰‫ دہ 0 
مَمترالَاَِھَا و تَهْمَا تک نی ال : یاوالایٹرو وانٹم تباعه 


'نھنی ای وس فکی وجہ سے ا ےگردہ انا ءا تم سے محر صلی اللہ تھا 
علیہ وحم بھ ہیں“ دہ دنا و لوت می تا لام ادرک 
رز اور ا نکی امت ہر" 
شمنشابی خطبہ ہے۔ ان بارشادوں کے دارالساطنت میس پڑھا جا اوز و لوگ اپے 
شع ہونے اور تضو لاس لئے ری ترںوواتیَ 
ا کہ دست بس ہیں یہ حاضر جو سلطنت آک ےکر مگ جھے 
آڑع 2 ایت تَامُکَكٌهپ و عَلی ال مُکَکّد وبا رک 
رَمَلم 
. علدبریں جس طرح حضود اقر پیا کی وت د کت زن پ ہے ای طرح 
لاء اعطی کے سکان بھی نضور کے زم گییں ہیں اہ آسمانوں پ بھت سے فرشنے ابیے ہیں جن 
.و یی داں سے مل وس مت سیر 
یم کے از عد مشتاقی تھے اور برار بی دماکرتے تھے "کہ خداوندا بی زیارت بد 
ال ریلین؛ ناخم این کیم ا سن نے ضو رکو آسافوں پر بلایا !اہ 
ور اط مسر ات لا رت ےا کی کت تال جح غازر 
میں وہ مقصد بھی عاصل ہو جن س کی طرف حدیٹ این خسار میں اشارہ ہوا کہ ان کے 
رم آسمانویں راس لہ یچ ہما کس یکی رسای می ہوکی 00 شمنشابی سفر 


۳۳ 
زین کے علادہ آسانوں بر بھی ہو“ کاکہ سکان طاء اعلی بھی ہے شمنشاہ دین و مت “یم نعرام 
جن نکی زیارت سے مرف ہوں اور بیت اور یں تام رت زی ہوں اور رمول 
الہ یر وہل بھی امام ی نکران جو ںک نماز ڑھا می۔ 
ال ا کے سب کم عحمت سے ہدتے ہیں راج شریف کے معاقی . 
ایک ایک با تکو فور یق پ رابک میں نہ صرف ایک عم ت ایک ملعت ہوگی' لہ بی 
ار مصاع دواد بی ہوں گے۔ 
مراع شریف رت میں ہونے کے ملق مصاع و امھ "تیر تقرے کے 
تلق عر کر چا ہوں۔ آج ایک بات خیال میں نگ کہ اس مامت ھرجوم کو سای بھر 
می دو ون مرک عطا ہو گے تے۔ ایک عیدالف' یوم الپائزہ... دو سرا یوم ال یم 
ایازة گر رات ایک بی مرک لی شی شب قد ر* نزول قرآ نکی رات۔ اسی لیے“ اللہ 
قاٹی نے ایک برک رات شب معراع اور عنایت ذرائی کہ نظاہر مس کالی درعقیقت 
انوار و برکات ابا یکی وجہ سے مور و روشن رات لکر ”لَبْلَھا كَتھَارکا"کاارش 
کل ہو۔ ۱ 
نیز بھی معلو مکر چا ےکہ وو برک رات جس میں معراعح شریف ہوئی ‏ دہ ہیر 
کی رات خی اللہ تفائی نے چی کے و نکو بت سے فضائل وکالات در ےکر جع ہکہ ہم پهہ 
کبیا لہ انف لکی۔ حضور اقرل یم کی ولادت اسعاوت دو شزب کو ہوئی۔ تضو رکو 
وت دو شف کو عطا ہوئی مضو رو ججرت کا عم رو شنیہ کے ون ہوا ونات شریف دو شنے 
کے ون ہوگی'نس د نکی رات محراج کے لیے مقر ہوک ی' دہ بھی دو شفبہ کان تھا۔ فغمر ض١‏ 
دو رات کائل' رو رن کال“ یرد برک ت گااس اص تک خطا ہوا کگہ دو ون شفع ہوں اور رو 
راتیں اس امت کے لیے شفاع تکریں۔ 
ای رح ار مارعد او معراع پہ فو دکیا جاے وو بھی جیب مکحوت وعحمت پر 
بی ہے۔ وجب کا مد ای سے رڈ ہواکہ پل سے شاو سک دو رک ےل چے 
جے۔ اک ابتداۓ سال ممرم احرام ریف اور ارک اتال سال ذئی الہ الا مکہ ال 
زانہ بی سے مبرگ اور مقندس لے آتے ہیں اب دسطے می کوئی ممینہ نائس طود پر 


: ۳٣۴ 
متبرک نہ تھاٴاس لچ رب العزت نے درمیان سال میں اہ رج بکو “راع شریف کے‎ 
۱ ففل ے وازا۔‎ 
ایت لئ مس خطا فرائے۔ ابتدائے سال حم وسط مال‎ 
یش رہب آخھ سال میں زی الہ الأرام۔ چ ھکمہ افضال بادىی تعاٹی اس امت پر بے ار‎ 
ہیں'اس یه صرف تین مین د ےکر من تی ہکرنا بین زہ فراا بلہ محرم اور رجب کے‎ 
درسیان میں اہ مارک رع الاول شری فکو ولادت پاسعارت کے فضل سے شرف فراا‎ 
اور رحب د زی ال کے درمیان اہ سبارک ر مضان شریف ”شب رَمَضسَاٗالَوِیأُثرلَ‎ 
نیم الْقُرأ مُدٌی پِشایں تزتپٹ بن الھُڈی و الْمُژنان" کے ففل ے_‎ 
مرف آرایا۔‎ 
مور انس مایپ گر سا عکی ددات بوت سے بار ہیں سال عطاہوئی۔ اس‎ 
٣ جس مم مصلحت ظاہرے۔ تضو ر کر چالیسویں سای عمر شریف سے وت عطا ہوئی اور‎ 
سال بعد نبوت دنیائمش قیام فرایا۔ ۴۳ کانمف‎ ٣۳ سا لکی مر می ری اع سے جاے۔‎ 
ساڑ ھھےگیارہ ہد نا ہے جن کو مال تھا مکر لین سے ہا ہوتے ہیں۔ اس لیے نصف عمرضوت‎ 
۱ یش معرا عکی دوات فی جحوشرت کے عین شباب کا وقت ہے۔‎ 
بظاہراییا لوم ہو ) ہہ ےکر شب نصف ممرنوت میں صاع شری فکی دوات لیت‎ 
نشف او میں نشی بندرہ مار کو عراج ہوا ماسب تھا۔ جو شب او بھی تھی لیکن ایمانہ‎ 
ارچ ا کے لیے مخصو صک گی جو بل شب تاریک ہے۔ اس ںکی دجےے‎ ۲٢ ہا ۹ک‎ 
ہےکہ ولادت باسعارت ۴ا رع الاو لکو ہوئی ن3 اگر چہ ہم لوگ ابترائۓ گمین بھی ار‎ 
سے لیے ہیں ' لکن درعقیقت ہم لوگوں کا سلائی مم قذاس دن سے شرد] ہو ہے جس‎ 
دن سے بے آفاب نوع و اتا رساات ظ لو ہوا فو ما سے دومرے مسینہکی اتک ایک‎ 
ضف ارس اح‎ ٢ اتال رسماالت کاہوا۔ اور ے٣ اس کانصف ے "کہ اور ۵ا۔ے‎ 
بوئی۔ علادہ بریں طااب و مطلوب کے للے کے لی شب ماریک ہی مناسب ہے لہ‎ 
اسرادو طائ کی باجیں' رازد نیا کے رموزعام طور بر عالم شکارانہ ہوں۔ اس مطمو نکو‎ 
کی عاش ق ککعہ ان نکیا خوب نض مکیا ہے‎ 


۳۵ 
فص ٠‏ نی ٣م‏ اڑت 
لی گل سے شر المر 
ىں ی× ٠خ‏ تر بی 
ىز رم یں طرخٗ البمدہ 
اما ژزردت ل الام 2/1 
یق یل صضی اشت زد 
غرض١‏ واقعہ ماج راز اآۓے سرت کا اککشاف اور طالب و مطارب کے ورمیان 
لت د حبت کے پردوں کے ارام اور حیو پ کو اس رہ غلیا پر پنیانا ہے ' جو برو فطرت 
سے اس وقت تک نز ہک یکو لا نہ ای وت سے قیامصت ‏ کک یکو لے۔ سی وہ فحمت 
لازوال سے جس کے سائھ الہ قعاٹی نے اپنے محبوب نما و مطلوب با انبا اتد بی 
بر مصطفی صلی ارہ تزٹی علیہ مل مکی عزت افزائ یکی۔ 
ین ایک شب ں۴ رج بکو رسول اللہ ما ام ہنی ک ےک رآرام فمار ہے تے' 
کہ مک نکی چم تکن اور دو نس آتے ہو معلوم ہورئے۔ وہ تضو رکو وپں سے اٹھ اکر 
علیم ہیں ہے یں ان مم محنزم حقرت مزہ اور چیا زار بائی عخرت شمفرین الی طااب 
کے درخیا نہ دی سوئے "کہ یل و مکائیل و اسراٹنل تیوں ٹیل القدر فرخے آے۔ 
ول ٤ے‏ تضو رکو زمزم کے پاس لائۓ' وہل آ پکو پشت کے مل جبت لٹا اور یل ایس 
نے آپ کا سینہ مارک صدر سے ب ےکر اسفل بط ن نی شکم کے انیہحصہ تک 'ش کیا 
اور میکائیل س ےکھا کہ آب زمزم کا ایک طشت میں لا کہ میس آپ کا سید مارک 
دہوؤں یا شرح صد رکروں تر تن طشت پائی سے تن ھرحبہ دنہ مار ککو دحویا اور جو مھ 
یں تفتضی بشریت شان وت سے ارون ا نکر یل ریا۔ پچھ راک طشت ملم و علمد 
عم ت کا پھر ہوا لائے “اور دوب رے کاپ را لپ مپارک میں ایڈیل دیا ۷ق قلب مبار ککو 
۶ علم؛ ععمت سے بھردیا۔ پھر دونوں گگڑو ںکو اکر سی دا“ اور رونوں مویڑہوں کے 
درمیان نام خبو تکی مرگ رگی۔ ۱ 5 ۱ 
ای کے بعد جنت سے براق یح سک لاے۔ براتی مفیر یا چنلے منگ کا لے“ 


۳ 

گر سے سے بوا چر سے چسوما'بمت بح تیز رففار تھاکہ سنتہائے ٹاہ بر قرم رکتا تھا اس 

کو نہ پاڑ عالُی تھا نہ ددیا معاون۔ گی ھی مسسافتیں پگ مارتے ہی لح ےکر تھا۔ ایک 

شمان ا سکی تیب شھ یکہ جب پہاڑ کے اوبر چان پچپلی ٹاگیں ا سک سی ہو جاتی * اور 

جب پچاڑ سے میچ ات تہ اگی ٹاعیں ال کی بی ہو جاتں' 7 کک 
لیف ںہ ہو 

جب مفورائدس یم نے اں بر سرار ہونے کاارادہ فرااٍ براقی شوٹ یکرنے 


۱ گا جبرنل علیہ السلام نے اس کے ال پر اچا پت راو ھا اے براقا ٹھرخدائی ما 


ان سے زیادہ ”ود زم فداکے نیک کک بھی نہیں" جھ ٹھ پر سوار ہو انتا سنا اکلہ 
براقی شرمیدہ ہوک ہیدہ پینہ ہوگکیالور ھ کیا 

جب مضور ازرں مم ابص اص کک !اب 
رکا بک کپکڑے رہے اور میکائتل بامیں طرف نا مکو تھاے لے ' برای بیت الملقدس کے 
راس پر چلا۔ ضور انر لمکم نے ای سفرمش با کہ جرل کے کے پ نماز با 
خ سے ترک اف صن کے منج دوش پل پت راز سے ارات 
قدرت و صن یکیفیات رکھیں- ٹس کامیان ”شک یل اتا“ کے زکرم ہوگا۔ حلت 
لئے رحیل این نے عو ضکیاہ مضور برفق سس اتریں اور وو رع نماز پھیں- چپ 
تضور ماز یڑ گی“ قب چھاکہ تضو رک معلوم ہےکہ بیہکون سا متقام ہے“ مت 
نے نمازڑشی؟ے مین موروے ال کا نام طیب بھی سے اس ل کہ یما لک آپ و ہوا 
ھت ی یس اور پاگیزہ ہے اور بی تمہ حضورکے بجر تکی سے 'اود بجی امت تک کے 
لیے تضور تامقام آرام کاو ہے۔ 

پھر تضور سوار ہوئۓ اور آگے بدھھے' چلھھ دور لے ہوں کہ پت یل ن ےکما 
کہ حور نزو ہلال ورای اور ود وک نمازاس کہ بھی پڑھیں۔ جب حور نماز ڑھ 
کچ پچ چھاکہ کون ىی کہ ہے؟ سپ چنا نہ دد ات عال کے کے تھا؟ نہ موازائلہ جر 
سے مہ صرف اس لیے پک حضور جو اب ا کی طرف اص متوجہ ہوں ؛ور ای 
تقا مکی ایت خیالی می رھیں۔ پھر جبرننل ن کماڑہ لک شام شمریرین ہے“ ا سکو ار 


مس 

بیناء (سفید زمن) بھی کت ہیں۔ یہ شمر٤‏ موک ہے جس کے سابہ میس حضرت موی علیہ 
الام نے آرا مکیا تا جب مصرسے فرعون اور ال کے لفگروں کے خوف سے نگ تے۔ 

پر تضور سوار ہوۓ اور ج۔ تھرڑی در کے بعد پھرججرنئتل نے عر کیاکہ 
۱ تضور یراں بھی خزول فرامیں اور دو رکعت نماز بڑھییں۔ نپ نماز سے فارغ ہوئے توکھا“ 
تضور چان ہی سکم کون سی تہ بے ؟ ىہ طور سینا ہے ' ہہ مرو شام کا مور پا ہے 
اسی پ شر مبارکہ کے میئچ الہ تزلی نے حضرت موک علیہ الام سے کا مکیاتھما۔ 

پھر تضور سار ہوۓ اور چے۔ تھو کی دم پچ رت نل ن ےکھا کہ تضرراایں 
اور رو رکعت نماز پڑھیں۔ جب نماز سے مارح ہوۓ و چچماکہ تضور جا لن ہی ںکہ ےگونںکا 
کہ ے؟ کہ فرع نکی لڑکی اود ا کی اوماکی پش کاگھرہے۔ گنیگ رن والی ) 

پھر مضود سوار ہ کر چے۔ تھوٹڑی دب کے بعد برئیل ن ےکا تضور١‏ اس کہ اتہر 
رد رعت از ڑ ۓے- ضور علیہ السار ة والسلام ات ے اور دو رگعت نماز بڑیں۔ جریل 
این نے پپچھااکہ حضو رکو معلوم ہ ےکم کون کی مہ ہے؟ پگ رکا سے بیت الم ہے۔ 
سی مہ ہخرت یی علیہ السلام درا ہو تھے ىہ ا نکی پیرائُ کامقام ہے 'ىہ شام میں 
مور بھی بیت اللق دس کے تریب ے۔ ۱ 

ال کے پور ضر موا ہوکر روائہ ہوۓ اور بیت اللقدی مشش اب بھی ے 
دال ہو اور برابر سی رکرتے رہے؛ بل ت کک مجد ال چیچے۔ دہاں تج کر برای 
ریف ے ارے ا ںکو مر ے دررازے یر ال علقہ سے بائدحاہنس می اور انیاء 
میم السلام اپنے سوارئی کے جافور باندھاکرت تھے۔ اور ایک ردایت مج ہج کہ برا یکو 
علقہ س ےکھولا اور سر میں مطرہ مبارکہ (چھرا کے بنادیک لائے اور انی اٹگی سے مر جس 
سورا غکیا اد راس میں برا یکو باندھا ۔گویا اہ رکیاکہ آپ دہ شی ہی ںکہ آ پکی سواری 
ددواذہ پر رہے' آ پکی شان ار دای ہیے' آ پک سواربی واخل ئل ہگی۔ نس طرحع 
علاشین زانہ کارستور کہ دہ ہردروازہ یں اقرتے ی۲۰ رشح تک سوا رآتے یں اور 
انل تکیہ سواری سے ارت ہیں 

فرشا پھر سر بیت النقدس میس شرتی دروازہ سے واشل ہو اور حضور در 


۲۸ 


مم اور ببرئیل اشین نے دو رکعت نماز تہ السچد پڑعھی۔ اس کے بعد ضو رکیا گی 
ہی ںکہ سد اتی می ماگ اور قمام انی کرام شیہم العلو ۃ والسلام تع ہیں باکہ سے لوگ 
تضور انس یك کی اتتزاء میں نماز پڑھیں اور ضور جس طرح اول سب کے انام 
آخرت میں ہیں' دنا میں بھی ام ہوا ظظاہر ہو جاے۔ ضور نے س بکو پھام اور وو لوگ 
بھی نماز می تھے ۔کوئی قام یں تھا کوئی رکوغ مین 'کوئی محبرہ یں اس کے پور جب سب 


لگ حون الد سے ذارغ ہو گے تر حرت ببییل علیہ السلام نے از نکی اور اقامت 
ہوئی۔ سب لوگ عف ورس ت کر کے اتظا کر رہے تھ کہ دیکھت کون ایام ہو ے2 


جج نل اشن نے تضور اقرس بیچیك کادست سبارک ڑا در محرا بکی طرف بڑھایا اور 
تضور نے س بکو دو دکعت نماز پڑھائی۔ ال کے بعد خلبہ بغ ارشاد فیا جن کے الفاظ 
کر لبھی آپ حفرالت کے مان من یگ 

ا مفرمی تضور نے بچھ مجلہ مماز پی۔ ان مس پا ساب ڈو اس جا تکی طرف 


میم ہ ںکہ ا نکی شرییت می پیج دق تک نماز فرض ٦‏ وگی ادر چھٹی نماز مسر می جماعت ۱ 


اور خظہ کے ساتہ ہوگی' جس میں نانزجعہکی فرخیع تکی طرف اشارد ےد 
الھتدااس فدد فرق جح کی نماز می جو ہم لوگ پڑھاکرتے ہیں اور جو مضور نے بیت 
قد می پڑ ھی ضردری ہ کہ ہم لوگ جعہ کا خلبہ تل بڑھے ہیں اور تضور نے پیر 
نی خطبہ دی و بات ہہ ہ ےک پل بمعہ کا خلیہ بھی عیدرین کے خطب ہکی طرح بدد ب یکو ہوا 
قا لین لوگ جب تھارت یا لود احب دکھتے ق نماز رھ عی گے ہوتے“ خلیہ چھو کر 
پل رتیة۔ ا 1۴/ ترآن ٹرہف ض ے وھ زآوا یمارڈ ارک سِنْمَکًر رکیی 
وت رو کک فَایشا0 ای دجہ سے بجع کا خطبہ مقد ممکر وا جو ال ز نہ سے ای رما ڑا 
وع اور سب کا مممرل ے۔ ۱ ۱ 

صلی الله تَالی عَللی تنَا تحت الم اَحْمیبیَ 


۳ 


ن0 


دیس فکیا لک کرت مہ بنافاا 
عرش نلم یراہ ش اار۷ 
روہال میں پا ہے اہ( یسا 
مباری ےآ تل وں لتگ فا دربارکا 
رون والا سن الواہے 
کیک ےےن نیشن سا 


فن چپ وزر ور ایم نر ھا 


لات ارک دنا رکرھاتے 
پیسکتیری زیمت ککیفریال کے نے نک 
میں ممائدا نا میں 
تو ےرت باریس ت در دا زہڑوا 


رہ سب لوم سے یس ہا 7 ضرا 
بنا نی کا مر ےکر 
ورلرں‌عا پ نہیں صذق ار 
فیس پ دم ے دی انتا 
کیکہوں مال میک عو ہکا را 


دورما رر ےخ ضا مد تار 


ْ دیکا یاساکنہ ےکیا شر د نیا کا 


مج سکوقرت می لےلوی نکی برا رکا 
مد ےک۷ام 2مد زکسار 7 
کرآیی میں ہیی سے پ ڑکا 
یت ما کات بندہ )و ںخنا رک 
سا2 نلؤاں سی دلرارکا 


کم ودفحطے زیڈرٹس ود ہیں پور مگڑ 
یی را سب سے خالم جل وپ ویاک 











ین کے ریا بی کو اھ کیا کرؤں 
دا کے راز بی گعلیں ور یس کیا سا 

ضر ۱ کم چم ٹن یں 
کک ہاکہ ین یں 

7٦‏ لو ال میکس لور رگا دیکرؤں- 


امیس یصے مدق بے نوڑی در لحس تس لگا" 
ً1 یرش 
د لکوضے ذردداغ عشن پھرشں را دو ٰ 
مر ہی اھ رسک ھا کریژں 
ذ لکہےنکرا س طاح ٹردے علاتے ڑر ےنور 
2 م ٹڈ کرک و را سے بتکرؤں 
اغ مکل تھا ہججریں سے پاٹ ےگل 
کام‌ہے ان :0 زک سے نروہ بر جج اکہ یں 
جیے روا بضع روا کا نکر رر 
1 سے یٹس عارہ مم بر صا کر و 02 


عبت اشاعتاباسخّت پاکستا نکی مرگرمیاں 


ہف وارق اغار:۔ 

جححیت اشاعت اہلسفّت پا انان لےزمراجنزام )4ہ اعد مازحتشا مقر یا ٭ا ہے رب تکوفو رسجد 
کا فح گی بازارکرا تی میس آیف اتنحاع منعق وناب ں سے متقترر وخخلف مایا ۓ اہ لن ت لف 
موضدعات بر خطاب فرماتے ہیں- : 


ہی 

جھعیت کے مت یک مقت 20 گی روغ تنس کے مت ہر ماد تفنقرر علماۓ 
ت زی مکی اتی ہیں۔ خویش مندحعفرات نو رمسچدر سے رابطہ 
0 


رار حفن دا ظروے 

معیت ک ےت را تکوحفظط وناظمرہ کلف مدارس لگاۓ جاتے ہیں جہاں ق رآ ن یاک حفظ و 
دیس لگائی:۔ 

جححیت اشاععت اپست پاکتان کے کرت دات کک اونفات ٹیل دز انطائی ‏ ی5( نیس بھی لککی 
جائی میں شس مس ایق ائی با در جو ں کی زا یں س اتی پالکیں۔ 

وی ابر ری: 3 


بحیت کے تحت ایک الب ری ای قائم سے جس می خخلف علاے اس تک یکا یں مطالحہ کے 
2 س سا عت کے لیف تفر پھمکی جائی پر ہیں خوائشل مند رات رابط نر انھیں- 


پیغام اعلی حضرت 
ااماسّت ہیر ددی بات ال شا ٥‏ ا تر ضا حا لن ال بر یاوی علی الم 
پیارے پھا تید ام مصضفی صلی الل علیہ وی مکی بھولی بھالی بھیٹرری ہہ 
بھیٹرےتمہارے چاروں طرف ہیں یہ جات ہی نک ہیں بکاد ہیں تہ میں 
ڈال دی سپیں اپنے ساتق چم جس لے جامیں ان سے پچو اور دور پھاگودلی ہنی 
ہو مرافشی ہو ,ری ہو ے ہناد یا لی ہو ے ء بیز ال وی ہو ئۓے خرف کے ہی 
ہو ۓ اوران سب سے سن گا ندعوکی ہو ۓے جنہوں نے ان س بکو اہینے اندر 
ےلیا رسب بھیٹرئئے ی ںتمہارے ایما نکی اک میں ہیں ان کےہتملوں سے اپنا 
یمان با تضوراق رس س٥لی‏ اڈ علیہ یلم ؛رب العزت بل جلالہ سے ور ہیں تضورے 
سحا ہہ رشن ہو ءان سے مالین رشن ہوے ەتا لین سے جع جا لین رشن 
ہوے ‏ ان سےائمجچل بن وشن بے ان سے چم رین ہو ۓ اب چھرقم سے کت 
یں بیلارکم سے ےلوگ یں اس یضر وہسے مم مم .0+0۳1 بے لہ 
انڈروررسو لکی بی عحبت ا نکیپمحیم اوران کے دوستو ںکی خدمت اورا نک یگکرمم اور 
ان کے منوں سے چئی عداوت جس سے خدااوررسو لک شان مس ادف تو ین پا 
چمرووٹہاراکییسا ہی پیاراکیوںل نہ ہوثو راس ے جدا ہو چا جس سکوبارگاورسالت مل 
زرا بھ یکمتتاغ دیکھو پچ رو رتھہا راکییساہی رگ تل مکیوں نمو ؛اپنے اندرسے اے 
دورو ے ےھ یکی طرع پا لکربیک دو 
(وصایاشریف ض٣۳‏ از موا نا نین رضا)